پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کی جانب سے دی گئی سزاوں پر عمل درآمد روک دیا

datetime 16  اپریل‬‮  2015 |

 

اسلام آباد(نیوزڈیسک )سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کی جانب سے دی گئی سزاو¿ں پر عمل درآمد فوری طور پر روک دیا ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 17 رکنی فل کورٹ بینچ نے 18 ویں و21 آئینی ترامیم اور فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عاصمہ جہانگیر نے موقف اختیار کیا کہ فوجی عدالتوں کا قیام موجودہ عدالتی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ یہ عدالتیں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اگر کوئی بھی قانون بنیادی انسانی حقوق اور آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہو تو سپریم کورٹ پارلیمنٹ کی طرف سے بنائے گئے کسی بھی قانون کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ وفاق کی جانب سے جوابی دلائل میں کہا گیا کہ آرمی ایکٹ کے تحت سزا پانے والوں کے پاس اپیل کا حق ہے، آئینی ترمیم کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا اس لئے ان درخواستوں کو خارج کیا جائے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیا کہ ہمارے علم میں نہیں کہ فوجی عدالتوں میں کیا کارروائی ہورہی ہے، عدالت نے فوجی عدالتوں کے حوالے سے نوٹس جاری کئے، پھر بھی سزائیں سنا دی گئیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ فوجی عدالتوں کی آئینی حیثیت عدالت میں چیلنج ہے، ملزمان کو سزائے موت سنائی گئی ہے جو معمولی سزا نہیں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ شیخ لیاقت حسین کیس میں پہلے بھی فوجی عدالتوں کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے، ماضی میں جب فوجی عدالتوں کے خلاف فیصلہ دیا گیا تو اس وقت تک 2 افراد کو پھانسی دی جاچکی تھی، کیا گارنٹی ہے کہ اچانک پتا چلےکہ اپیل خارج ہونےکےبعد پھانسی دی جارہی ہے۔ فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق فیصلہ آنے تک سزاو¿ں پرعمل درآمد روکا جائے۔ عدالت عظمیٰ نے فوجی عدالتوں کی جانب سے دی گئی سزاو¿ں پر عمل درآمد فوری طور پر روکتے ہوئے مزید سماعت 22 اپریل تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…