منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

پیشی کے موقع پر اسحاق ڈار عقبی گیٹ سے عدالت میں داخل ،اس گیٹ سے کن کن افراد کو اندر بھیجا جاتا ہے؟حیران کن انکشاف

datetime 27  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کو احتساب عدالت میں پیشی کے لئے جوڈیشل کمپلیکس کے اس عقبی گیٹ سے داخل کیا گیا جس گیٹ سے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کیلئے ایم کیو ایم کے رہنما عمران فاروق قتل کیس کے ملزمان کو عدالت لایا جاتا تھا۔ بدھ کو سینیٹراسحاق ڈار احتساب عدالت پیشی کیلئے جوڈیشل کمپلیکس جی الیون پہنچے تو گیٹ پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے ان کو اندر نہیں جانے دیا

جس پر وہ واپس اپنی گاڑی میں بیٹھ گئے اور انتظار کرتے رہے اس دوران سکیورٹی پر مامور افسر نے انہیں عقبی دروازے سے احاطہ عدالت داخل ہونے کے لئے کہا اور وہ جوڈیشل کمپلیکس کے عقبی دروازے سے احاطہ عدالت پہنچے۔ واضح رہے کہ جوڈیشل کمپلیکس میں احتساب عدالت سمیت انسداد دہشت گردی اور سپیشل سنٹرل جج کی عدالت موجود ہے ایم کیو ایم کے رہنما عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار ملزمان کو بھی انسداد دہشت گردی ی عدالت پیشی کے لئے جوڈیشل کمپلیکس کے عقبی دروازے سے داخل کیا جاتا تھا اور بکتر بند گاڑی میں یہ ملزمان عقبی دروازے سے ہی واپس روانہ ہوتے تھے۔

دریں اثنا وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ دیکھنا ہوگا کہ نیب نے ریفرنس قانون کے مطابق بنائے یا کسی کے حکم پر ‘ اسحاق ڈار پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا کوئی الزام نہیں ہے‘ ریفرنس نیب قوانین کے مطابق بنتے تو کسی کو اعتراض نہ ہوتا‘ اسحاق ڈار کے اگر اثاثوں میں اضافہ ہوا تو سالوں میں بھی اضافہ ہوا‘ اسحاق ڈار کے اثاثے ایک سال میں اچانک نہیں بڑھ گئے‘ فرد جرم عائد کرنے کے لئے سات دن کا وقت دیا جاتا ہے لیکن اسحاق ڈار پر دو دن میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔بدھ کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ عدالت کے باہر کی سکیورٹی اسلام آباد انتظامیہ کے پاس ہے۔ عدالت کی ہدایت کے مطابق ہم تعاون کرتے ہیں رپورٹر پر تشدد کا واقعہ کسی کی ویڈیو بنانے پر پیش ایا رپورٹر پر تشدد کی انکوائری کررہے ہیں دیکھنا ہوگا کہ نیب نے ریفرنس کسی کے حکم یا قانون کے مطابق بنائے۔ اسحاق ڈار پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا کوئی الزام نہیںہے۔ یقینی بنائیں گے کہ آزادی رائے متاثر نہ ہولیکن یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ عدالتی کاروائی متاثر نہ ہو۔ نیب نے ریفرنس میں لکھا کہ چونکہ عدالت عایہ کا یہ حکم ہے اس لئے یہ ریفرنس بنا رہے ہیں۔ ریفرنس نیب قوانین کے مطابق بنتے تو کسی کو اعتراض نہ ہوتا۔ اسحاق ڈار کے اگر اثاثوں میں اضافہ ہوا ہے تو سالوں میں بھی اضافہ ہوا ہے یہ نہیں کہ ایک سال میں ہی اثاثوں میں اضافہ ہوگیا۔ جن آٹھ سالوں میں وہ جلا وطن رہے اس آمدنی کو بھی گنا جانا چاہئے۔ ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں بغیر الزام کے ریفرنس ان پر بنا دیا گیا فرد جرم لگانے میں جلدی کی گئی ہے۔

 



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…