جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

خیبرپختونخواہ حکومت بھی شامت آگئی، چیف جسٹس نے کپتان کو آئینہ دکھا دیا

datetime 22  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) خیبرپختونخواہ کا بلدیاتی نظام غلطیوں سے بھرپور لگتا ہے جلدانتخابات کرانے کے چکر میں جلد بازی میں قانون کہیں سے کاپی پیسٹ کیا گیا ہو، پارٹی سے نکالے گئے خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کے ریمارکس۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف سے نکالے گئے

خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کا بلدیاتی نظام غلطیوں سے بھرپور ہے لگتا ہے کہ جلد بازی میں قانون کہیں سے کاپی پیسٹ کیا گیا ہو کسی نے تفصیل سے بلدیاتی قانون کا جائزہ نہیں لیا لگتا ہے کوشش تھی کہ جلد سے جلد بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔ دوران سماعت وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پارٹی ہدایات کے باوجود منتخب نمائندوں نے مخالفین کو ووٹ دیاجس پر جے یو آئی لکی مروت کے 5 کونسلرز کو پارٹی سے نکالا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ریکارڈ پر ایسی کوئی ہدایات موجود نہیں ہیں، جب پارٹی نے ہدایات ہی نہیں دیں تو خلاف ورزی کیسی؟ جس پر وکیل نے کہا کہ تحریک انصاف نے ضلع ناظم ایبٹ آباد کو پارٹی سے نکالا۔ جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ پارٹی کا امیدوار ہی نہ ہو تو ووٹ دینے والاآزادہوتاہے۔سپریم کورٹ نے درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو بعد میں سنایا جائے گا۔ واضح رہے کہ خیبرپختونخواہ کے بلدیاتی نظام کے دفاع میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے کئی جلسوں میں اس کی خوبیاں گنواتے ہوئے پنجاب اور سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…