پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

خطرے کی گھنٹی بج گئی، بڑی تعداد میں پاکستانیوں نے دھڑا دھڑ ملک چھوڑنا شروع کر دیا، انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 20  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اکثر پاکستانی نوجوان بیرون ملک اپنی معاشی کمزوریوں کی وجہ سے جاتے ہیں، کئی لوگ صرف سیر سپاٹے کی حیثیت سے بیرون ملک کا سفر کرتے ہیں مگر اب دیکھنے میں آ رہا ہے کہ بیرون ممالک جانے کے خواہش مند افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، واضح رہے کہ اس سال بیس ہزار 353 افراد نے پولیس سے کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کئے پولیس سے کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے دوران 46 جرائم پیشہ افراد بھی پکڑے گئے جو بیرون ملک فرار ہونا چاہتے تھے،

یہاں یہ بات یاد رہے کہ لاہور پولیس نے کریکٹر سرٹیفکیٹ بنانے کے نظام کو کرائم ریکارڈ آفس کے ساتھ منسلک کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے جو بھی شخص کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کرنے آتا ہے اس کا تمام ریکارڈ سی آر او برانچ سے چیک کیا جاتا ہے۔ اگر اس شخص کا کوئی کریمنل ریکارڈ موجود نہ ہو تو ڈی آئی جی آفس کی طرف سے اسے کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 2017 کے پہلے نو ماہ کے دوران 20 ہزار 353 افراد نے کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کیے اسی دوران 46 ایسے افراد جن کا صوبے کے مختلف اضلاع میں پولیس ریکارڈ تھا نہ صرف ان کا سرٹیفکیٹ روک دیا گیا بلکہ متعلقہ تھانے کو ان کی تفصیلات فراہم کی گئیں تا کہ ان کو گرفتار کیا جا سکے۔ ذرائع کا کہناہے کہ گزشتہ سال اتنی مدت میں صرف 11 ہزار کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے تھے اور اس سال ان کی تعداد میں 9 ہزار سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ ایس پی سکیورٹی لاہور عبادت نثار نے بتایا کہ کچھ ممالک ویزا کے اجرا کو کریکٹر سرٹیفکیٹ سے مشروط کرتے ہیں اور اسی وجہ سے شہری ان کے دفتر سے رابطہ کرتے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ جرائم پیشہ افراد گرفتاری کے ڈر سے بیرون ملک فرار ہو جاتے تھے مگر اب وہ بیرون ملک جانے کی بجائے پولیس کی گرفت میں آئیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…