منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

مشرف دور کی ترمیم تاحال صدارتی انتخاب کے قوانین کا حصہ

datetime 18  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن) سزا یافتہ، مخبوط الحواس، اور سرکاری ملازمین کو صدارتی الیکشن کا حصہ بننے کی اجازت دینے کے حوالے سے الیکشن قوانین میں ہونے والی متنازع ترمیم تاحال جوں کی توں موجود ہے۔ یہ قانون سازی سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی خوشنودی کے لیے ایک دہائی قبل کی گئی تھی۔الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد کے مطابق اگر صدر ممنون حسین اپنے منصب سے

دستبردار ہوتے ہیں تو یہ ترمیم برطرف ہونے والے وزیراعظم نواز شریف کو اصولی طور پر صدر کے عہدے کے لیے کھڑے ہونے کی اجازت دے گی۔ای سی پی نے ستمبر 2007 میں صدارتی انتخابات کے حوالے سے اس قانون میں ترمیم کی جس کے بعد صدارتی امیدواروں کے لیے نااہلی کی شرائط ختم ہوگئیں۔یہ ترمیم 6 اکتوبر 2007 کے انتخابات سے چند ہفتے قبل سامنے آئی تھی، جبکہ ان انتخابات میں جنرل پرویز مشرف نے باآسانی کامیابی حاصل کی تھی۔اہم ترین اپوزیشن رہنماؤں بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی جلاوطنی کی وجہ سے 2007 کے انتخابات کے نتائج پہلے ہی عیاں تھے۔خیال رہے کہ اس وقت کے وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر شیرافگن نیازی (مرحوم) کے بتانے سے قبل صدارتی انتخاب کے قوانین میں ہونے والی اس ترمیم کی موجودگی کو ای سی پی کی جانب سے خفیہ رکھا گیا تھا۔ترمیم سے قبل صدارتی الیکشن کے قوانین کے کالعدم سیکشن 5(3)(اے) کے تحت رٹرننگ افسران کو اختیار حاصل تھا کہ اگر انہیں کوئی امیدوار آئین کے مطابق صدر کے انتخاب کے لیے نااہل لگتا ہے تو وہ سمری انکوائری کرتے ہوئے کاغذات نامزدگی کو مسترد کردیں تاہم اس حصے کو قانون سے ہٹا دیا گیا۔جلد بازی میں کی جانے والی اس ترمیم کے بعد جواز پیش کیا گیا تھا

کہ اس کا مقصد قانون کو 2002 اور 2005 کے سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق کرنا تھا۔واضح رہے کہ جنرل پرویز مشرف کے خلاف جا کر عدلیہ عدلیہ بحالی تحریک کی سربراہی کرنے والے سابق چیف جسٹس افتخار محمد ان سپریم کورٹ کی ان دونوں بینچز کا حصہ تھے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے دی گئی یہ دلیل متعدد مبصرین کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی تھی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کی جانے والی اس تبدیلی کے لیے اتنا انتظار کیوں کیا گیا اور اسے متنازع صدارتی الیکشن سے صرف چند ہفتوں پہلے ہی کیوں نافذ کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…