پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ کا باب ختم،پاکستان نے روس کے ساتھ اہم معاہدے کرلئے،وزارت دفاع نے تفصیلات جاری کردیں

datetime 14  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی) سینٹ کوبتایاگیا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران وزارت دفاع اور ملحقہ اداروں سے بیرونی ممالک کے ساتھ 8 معاہدے کئے ہیں ٗپاکستان اور روس نے مشترکہ فوجی مشقیں کیں ٗ 3 ایم او یوز پر بھی دستخط ہوئے ٗ چین اور ناروے کے ساتھ سروے آف پاکستان نے دو معاہدے کئے ہیں جن کی بنیا دپر میپنگ سے منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔

جمعرات کو وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر کریم احمد خواجہ کے سوال کے جواب میں وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر نے بتایا کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران وزارت دفاع اور اس کے ملحقہ شعبہ جات کی جانب سے بیرون ممالک کے ساتھ کل 8 معاہدے کئے گئے ان میں 6 معاہدے وزارت دفاع اور 2 سروے آف پاکستان کے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور روس نے مشترکہ فوجی مشقیں بھی کی ہیں، 3 ایم او یوز پر بھی دستخط ہوئے ہیں۔ بحریہ کے شعبہ میں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے، فوجی تربیت اور روسی اداروں میں تربیت کے حوالے سے بعض معاہدے ہوئے ہیں اور بعض پر بات چیت جاری ہے۔ چین اور ناروے کے ساتھ سروے آف پاکستان نے دو معاہدے کئے ہیں جن کی بنیا دپر میپنگ سے منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جے ایف تھنڈر کے حوالے سے جو سوالات کئے جا رہے ہیں وہ وزارت دفاعی پیداوار سے متعلق ہیں۔ اجلاس کے دور ان ایوان بالا میں وزارت داخلہ سے متعلق سوال موخر کر دیئے گئے۔ وزارت داخلہ سے متعلق کئی سوالات ایجنڈے پر تھے تاہم وزیر داخلہ اور وزیر مملکت برائے داخلہ کی طرف سے چیئرمین سینٹ کو آگاہ کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے صدر نشین کرنل (ر) سید طاہر حسین مشہدی نے یہ سوالات موخر کر دیئے اور ہدایت کی کہ آئندہ روٹر ڈے پر ان سوالات کے جوابات دیئے جائیں۔

اجلاس میں چیئرمین سینٹ کی طرف سے توجہ دلانے پر قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا کہ آج غیر معمولی دن تھا، میں اس ایوان میں اکیلا تھا، ارکان بھی نہیں تھے اور وزراء بھی نہیں تھے۔ ہمیں پارلیمان کو پوری اہمیت دینی چاہیے، یہ ہماری پہلی ذمہ داری ہے۔ بعض وزراء کا وزیراعظم کے ساتھ بلوچستان میں ہونا ضروری تھا لیکن کسی اور وزیر کو ذمہ داری دی جا سکتی تھی، میں اس صورتحال کو دیکھوں گا۔

وزیر مملکت تجارت و ٹیکسٹائل محمد اکرم انصاری نے بتایا کہ پاکستان ہارٹیکلچر اینڈ ڈویلپمنٹ پھولوں سبزیوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔ پوری دنیا میں نمائشیں بھی منعقد کرائی جاتی ہیں، ٹی ڈی اے پی نے کئی ملکوں میں نمائشیں کرائی ہیں اور پاکستان کی سبزیوں اور پھلوں کی برآمد کے لئے اقدامات کئے ہیں، ان میں کئی یورپی اور دیگر ملک شامل ہیں،

حکومت کی کوشش ہے کہ ہماری سبزیوں اور پھلوں کی برآمدات میں اضافہ ہو اور ان کے معیار کو بہتر بنایا جائے۔ قبل ازیں سینیٹر کرنل (ر) سید طاہر حسین مشہدی نے پھلوں اور سبزیوں کی برآمد میں انحطاط کی طرف وزیر تجارت اور ٹیکسٹائل کی توجہ مبذول کرائی۔اجلاس کے دور ان ایرو میڈیکل ڈیپارٹمنٹ آف سول ایوی ایشن میں بد عنوانیوں کے حوالے سے انکوائری کمیٹی کی سفارشات اور جواب میں کئے گئے عملدرآمد کے دعوے کے مابین واضح تضادات سے متعلق معاملہ پر بحث کے لئے تحریک پر غور موخر کر دیا گیا۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کی طرف سے اس معاملے پر بحث کیلئے تحریک ایجنڈے پر تھی لیکن وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے چیئرمین سے درخواست کی کہ اس معاملے کو موخر کر دیا جائے کیونکہ وہ اس کا جواب دینے کے لئے پوری طرح تیار نہیں ہیں۔ چیئرمین نے یہ معاملہ موخر کر دیا۔بعد ازاں سینٹ کااجلاس (آج)جمعہ کی صبح دس بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…