جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

1965کی جنگ میں ،میں نے بھارتی جنرل کی گاڑی پر کیسے قبضہ کیا ؟ اور آج کل یہ گاڑی کہاں موجود ہے؟ ایک پاکستانی غازی کے دلچسپ انکشافات

datetime 14  ستمبر‬‮  2017 |

چکوال(آئی این پی) 1965کی جنگ میں چھ ستمبر کو بھارتی جنرل کی گاڑی افواج پاکستان نے قبضہ میں لیکر جس جرات ،بہادری سے فخر ہند ڈویژن کا حملہ روکا تھا ، سوشل میڈیا پر بھارتی جنرل کی گاڑی کی تصویر وائرل ہونے پر پورے برصغیر ،ہندو پاکستان میں ہلچل مچ گئی ہے۔ہندوستان کے جنرل ہیڈ کوارٹر میں بھارتی جرنیلوں نے سر جوڑ لیے ہیں کہ چھ ستمبر کی شام کو

پاکستان پر قبضہ کے علاوہ جن خانہ لاہور میں بھارتی جرنیلوں نے شراب پارٹی کرنی تھی اور یہ کس طرح یہ سارا منصوبہ ناکام ہوا، ہندوستان کے عوام اپنی فوجیوں سے پوچھ رہے ہیں کہ پہلے روز ہی بھارتی جنرل جو کہ فخر ہند ڈویژن کی کمانڈ کر رہا تھا اپنی جیپ چھوڑ کر کس طرح وہاں سے بھاگا ہے اس کا جواب دیا جائے اور پوری ہندوستانی قوم کو اعتماد میں لیا جائے کہ جب بھارتی جرنیلوں کی یہ پوزیشن ہے تو وہاں پر باقی فوج کی کیا صورتحال ہوگی۔ 6ستمبر 1965کو معرکہ بی آر بی لاہور کے غازی کیپٹن مقبول حسین جنہوں نے بھارتی جنرل کی دو سٹار والی گاڑی کی تصویر یوم دفاع پاکستان پر چکوال پریس کلب کو دی تھی اس کے وائرل ہونے پرافواج پاکستان کے بھی کئی سینئر افسران نے کیپٹن مقبول حسین سے چھ ستمبر کے معرکے کے حوالے سے فیڈ بیک لیا ہے۔ کیپٹن مقبول حسین نے پھر دوہرایا کہ جب بی آر بی پہ پُل اڑا دیا گیا تھا تو بھارتی جنرل کی مذکورہ جیپ کو پاکستانی توپ خانے نے ہٹ کیا تھا اور اس کا ناکارہ بنایا تھا اور چھ ستمبر کو یہ جیپ کھڑی تھی جسے آٹھ ستمبر کو نائیک سجاول حسین جس کا تعلق میانی ضلع چکوال سے ہے وہ بھارتی جنرل کی جیپ کو دھکیل کر اپنی یونٹ میں لایا تھا۔ کیپٹن مقبول حسین کے مطابق بھارتی جنرل کی جیپ اب بھی 18بلوچ رجمنٹ کوارٹر گارڈ کے پاس موجود ہے۔



کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…