پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

دریائوں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

datetime 14  ستمبر‬‮  2017 |

لاہور ( این این آئی) تربیلا ، منگلا اور چشمہ کے آبی ذخائر میں گزشتہ روز پانی کی آمد و اخراج ، ان کی سطح اور بیراجوں میں پانی کے بہائو کی صورت حال حسب ذیل رہی۔ دریا:سندھ (تربیلاکے مقام پر): آمد87200کیوسک اور اخرج 125000کیوسک، کابل(نونوشہرہ کے مقام پر): آمد16900کیوسک اور اخراج 16900کیوسک، جہلم: (منگلاکے مقام پر)آمد13400کیوسک اور اخراج45000کیوسک، چناب (مرالہ کے

مقام پر): آمد 26700کیوسک اور اخراج 8000کیوسک۔بیراج :جناح: آمد160100کیوسک اور اخراج 152600کیوسک،چشمہ: آمد159800کیوسک اوراخراج 155000 کیوسک، تونسہ:آمد155200کیوسک اور اخراج136500کیوسک، پنجند: آمد17300کیوسک اور اخراج 1700کیوسک گدو: آمد 128100 کیوسک اور اخراج 98100کیوسک، سکھر: آمد98700کیوسک اور اخراج 42100کیوسک، کوٹری:آمد39600کیوسک اور اخراج 2400کیوسک۔ ریزروائرز :تربیلا:ریزروائر کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1380فٹ،ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح1528.44 فٹ،ریزروائر میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550فٹ اورقابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ4.972 ملین ایکڑ فٹ۔ منگلا:ریزروائر کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1040فٹ،ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح 1223.10فٹ،ریزروائر میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ5.959 ملین ایکڑ فٹ۔ چشمہ:ریزروائر کا کم از کم آپریٹنگ لیول637فٹ،ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح 645.80 فٹ،ریزروائر میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح649فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.162 ملین ایکڑ فٹ۔تربیلا اور چشمہ کے مقامات پر دریائے سندھ، نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل اور منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد اور اخراج 24گھنٹے کے اوسط بہائو کی صورت میں ہے جبکہ

دیگر مقامات پر پانی کی آمد و اخراج کی تفصیل جمعرات کی صبح 6 بجے کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…