جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

صرف نواز شریف کے احتساب سے قوم کا مسئلہ حل نہیں ہوا،پانامہ میں موجود 436 افراد کا بھی آڈٹ ہونا چاہیے‘ سینیٹر سراج الحق

datetime 12  ستمبر‬‮  2017 |

لاہور ( این این آئی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ مجھے افسوس ہے کہ حکمران طبقہ نے کبھی بھی عدالتی فیصلوں کو قبول نہیں کیا ہم سب کا احتساب چاہتے ہیں صرف نواز شریف کے احتساب سے قوم کا مسئلہ حل نہیں ہوا،جماعت اسلامی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم چوکوں،چوراہوں میں کرپشن کے خلاف لڑائی لڑیں گے، ہم ایوانوں میں بھی لڑیں گے اور عدالتوں میں بھی پیروی کریں گے پانامہ

میں موجود 436 افراد کا بھی اب آڈٹ ہونا چاہیے، ہم کرپٹ سسٹم، کرپٹ پریکٹس اور کرپٹ قیادت کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔پانامہ کیس فیصلہ کے خلاف نظر ثانی درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق کا کہنا تھا کہ پانامہ لیکس اﷲ کی طرف سے ایک بے آواز لاٹھی ہے ابھی بہت سے سنگ باقی ہیں جن پرابھی اس لاٹھی نے گرنا ہے مجھے افسوس ہے کہ حکمران طبقہ نے کبھی بھی عدالتی فیصلوں کو قبول نہیں کیا حکمران شاہی خاندان صرف وہی فیصلہ قبول کریں گے جو ان کے حق میں ہے لیکن یہ مرحلہ نہیں آئے گا آج بھی سماعت ہو گی اور تکنیکی ایشو انہوں نے ضرور اٹھایا ہے لیکن میری اپنی دانست میں بھی ان کے لیے سکوپ بہت کم ہے۔سراج الحق نے کہا کہ ہمارا موقف یہی ہے کہ جو ہم نے گزشتہ روز لاہور سے راولپنڈی تک 15 مقامات پر جلسوں میں لوگوں کو بتایا ہے کہ ہم سب کااحتساب چاہتے ہیں اور صرف نواز شریف کے احتساب سے قوم کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ پانامہ لیکس میں 436 افراد کے نام موجود ہیں اوروعدہ کیا گیا تھا کہ ہم سب کا آڈٹ کریں گے۔ان سب کے نام موجود ہیں ان سب کے پتے موجود ہیں ان سب کی تفصیلات موجود ہیں اس لیے اب ہم چاہیں گے کہ نواز شریف کی نا اہلیت کے بعد ان تمام لوگوں کا آڈٹ ہونا ضروری ہے جس میں جج بھی ہے جس میں بیوررکریٹ اور سیاسی لیڈر بھی ہیں۔ہماری قوم کو ایک

موقع ہاتھ لگا ہے اگر یہ موقع ہم نے ضائع کیا تو یقین جانیے پھر کبھی بھی کوئی احتساب کا مطالبہ بھی نہیں کر سکے گا۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ اب اس بیماری سے نجات پانی ہے تو پوری قوم نے مل کر اس کے خلاف لڑنا ہے ۔ تمام سیاسی جماعتوں میں عام کارکن دیانتدار ہے اور وہ کرپشن فری پاکستان چاہتا ہے لیکن مسئلہ قیادت کا ہے۔ تمام سیاسی لیڈروں کا فرض تھا کہ کرپٹ لوگوں کو اپنی پارٹیوں میں جگہ نہ دیتے ، انہیںپارٹی کا

ٹکٹ نہ دیتے لیکن جہاں قیادت خود کرپشن میں ملوث ہو پھر ایسی قیادت سے یہ مطالبہ کرنا کہ آپ کرپٹ آدمی کو پارٹی میں نہ لیں یہ فضول ہے ان کا کہنا تھا کہ اب قومی شعور بیدار ہوا ہے اور بحیثیت مجموعی ہم کرپٹ سسٹم اور کرپٹ پریکٹس اور کرپٹ قیادت کے خلاف اس جدوجہد کو جاری رکھیں گے تاکہ پاکستان ایک کرپشن فری پاکستان بن جائے۔سراج الحق نے کہا کہ پانامہ میں سامنے آنے والے تمام افراد کے خلاف ہم نے پہلے ہی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے نام بھی دیئے ہیں۔پورا کیس ہم نے رکھا ہے اب ہم اس کی پیروی کررہے ہیں 14 ستمبر کو میں نے لاہور میں دوبارہ سینئر قیادت کا اجلاس بلایا ہے ہمارا ایک نئے عزم سے اس کی پیروی کا پروگرام ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…