جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ اس قدر گھٹیا مذاق ،عامر لیاقت اور وقار ذکا روہنگیا مسلمانوں کے نام پر قوم کیساتھ افسوسناک فراڈ کا انکشاف

datetime 11  ستمبر‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ) ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور وقار ذکا روہنگیا مسلمانوں کی مدد کیلئے میانمار گئے تھے لیکن انہیں ڈی پورٹ کردیا گیا ۔ ایک ہی روز میں تمام تر کارروائیاں ہونے پر سوشل میڈیا پر لوگوں نے سوالات اٹھانے شروع کردیے ہیں اور بعض لوگوں نے تو ان کے بورڈنگ پاس دیکھتے ہوئے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ وہ صرف بنکاک سے ہی ڈرامہ کرکے واپس پاکستان آگئے اور کبھی میانمار گئے ہی نہیں۔

ویب سائٹ پڑھ لو نے عامر لیاقت حسین اور وقار ذکا کے بورڈنگ پاس کو بنیاد بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ دونوں شخصیات میانمار گئی ہی نہیں۔ ویب سائٹ اپنے دعوے کی سچائی کیلئے دلیل دیتے ہوئے لکھتی ہے کہ ایک دن دونوں حضرات دبئی سے فلائٹ لے کر بنکاک گئے اور وہاں سے کنیکٹنگ فلائٹ لے کر ینگون پہنچے اور پھر وہاں گرفتار ہو کر پاکستان بھی واپس پہنچ گئے، ایک ہی دن میں ایسا کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ برما میں گرفتار ہونے والے ڈاکٹر عامر لیاقت اور وقار ذکا پاکستان واپس پہنچ گئے، دونوں کس حال میں ہیں اور واپس کیسے پہنچے؟ حیران کن دعویٰ سامنے آگیا سوشل میڈیا پر بھی عامر لیاقت حسین اور روقار ذکا کے بورڈنگ پاس کو ہی بنیاد بنا کر صارفین یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر دونوں اینکرز واقعی میانمار گئے تھے تو وہاں کے بورڈنگ پاس کہاں ہیں اور صرف بنکاک کا ہی بورڈنگ پاس کیوں شیئر کیا گیا ہے؟۔دوسری جانب ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر دعویٰ کیا ہے کہ انہیں میانمار پہنچتے ہی گرفتار کرلیا گیا اور 6 گھنٹے تک حراست میں رکھنے کے بعد ڈی پورٹ کردیا گیا۔ ویب سائٹ نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ اگر پاکستان سے براہ راست میانمار کوئی فلائٹ جاتی ہی نہیں تو پھر عامر لیاقت حسین اور وقار ذکا کو براہ راست پاکستان کیسے واپس بھجوادیا گیا؟

اس دعویٰ کو اس وقت مزید تقویت ملتی ہے جب عامر لیاقت حسین اور وقار ذکا کی میانمار یاترا کے سفر کے وقت کا جائزہ لیا جائے۔ کیونکہ ایک دن میں 24 گھنٹے ہوتے ہیں اور یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ دوملکوں کی کنیکٹنگ فلائٹ لے کر ایک ملک پہنچیں اور پھر وہاں 6 گھنٹے گرفتار رہیں، جس کے بعد آپ اسی دن اپنے وطن واپس بھی پہنچ جائیں؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…