اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ اس قدر گھٹیا مذاق ،عامر لیاقت اور وقار ذکا روہنگیا مسلمانوں کے نام پر قوم کیساتھ افسوسناک فراڈ کا انکشاف

datetime 11  ستمبر‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ) ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور وقار ذکا روہنگیا مسلمانوں کی مدد کیلئے میانمار گئے تھے لیکن انہیں ڈی پورٹ کردیا گیا ۔ ایک ہی روز میں تمام تر کارروائیاں ہونے پر سوشل میڈیا پر لوگوں نے سوالات اٹھانے شروع کردیے ہیں اور بعض لوگوں نے تو ان کے بورڈنگ پاس دیکھتے ہوئے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ وہ صرف بنکاک سے ہی ڈرامہ کرکے واپس پاکستان آگئے اور کبھی میانمار گئے ہی نہیں۔

ویب سائٹ پڑھ لو نے عامر لیاقت حسین اور وقار ذکا کے بورڈنگ پاس کو بنیاد بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ دونوں شخصیات میانمار گئی ہی نہیں۔ ویب سائٹ اپنے دعوے کی سچائی کیلئے دلیل دیتے ہوئے لکھتی ہے کہ ایک دن دونوں حضرات دبئی سے فلائٹ لے کر بنکاک گئے اور وہاں سے کنیکٹنگ فلائٹ لے کر ینگون پہنچے اور پھر وہاں گرفتار ہو کر پاکستان بھی واپس پہنچ گئے، ایک ہی دن میں ایسا کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ برما میں گرفتار ہونے والے ڈاکٹر عامر لیاقت اور وقار ذکا پاکستان واپس پہنچ گئے، دونوں کس حال میں ہیں اور واپس کیسے پہنچے؟ حیران کن دعویٰ سامنے آگیا سوشل میڈیا پر بھی عامر لیاقت حسین اور روقار ذکا کے بورڈنگ پاس کو ہی بنیاد بنا کر صارفین یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر دونوں اینکرز واقعی میانمار گئے تھے تو وہاں کے بورڈنگ پاس کہاں ہیں اور صرف بنکاک کا ہی بورڈنگ پاس کیوں شیئر کیا گیا ہے؟۔دوسری جانب ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر دعویٰ کیا ہے کہ انہیں میانمار پہنچتے ہی گرفتار کرلیا گیا اور 6 گھنٹے تک حراست میں رکھنے کے بعد ڈی پورٹ کردیا گیا۔ ویب سائٹ نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ اگر پاکستان سے براہ راست میانمار کوئی فلائٹ جاتی ہی نہیں تو پھر عامر لیاقت حسین اور وقار ذکا کو براہ راست پاکستان کیسے واپس بھجوادیا گیا؟

اس دعویٰ کو اس وقت مزید تقویت ملتی ہے جب عامر لیاقت حسین اور وقار ذکا کی میانمار یاترا کے سفر کے وقت کا جائزہ لیا جائے۔ کیونکہ ایک دن میں 24 گھنٹے ہوتے ہیں اور یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ دوملکوں کی کنیکٹنگ فلائٹ لے کر ایک ملک پہنچیں اور پھر وہاں 6 گھنٹے گرفتار رہیں، جس کے بعد آپ اسی دن اپنے وطن واپس بھی پہنچ جائیں؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…