جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

شام میں روسی فضائیہ کی نقل مکانی کرنیوالے افرادکی کشتیوں پر بمباری،34 ہلاک

datetime 11  ستمبر‬‮  2017 |

دمشق(این این آئی)شام کے شہر دیرالزور کے قریب کشتیوں کے ذریعے دریائے فرات کو عبور کرنے والے شہریوں پر روسی فضائیہ کے حملوں کے نتیجے میں 34 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی برطانوی مبصر تنظیم نے روسی فضائی کارروائی سے ابتدائی طور پر 21 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع دی تھی تاہم بعد میں جاں بحق

افراد کی تعداد 34 تک پہنچ گئی۔برطانوی تنظیم کا کہنا تھا کہ اکثر لاشیں دریا میں میں موجود تھیں۔تنظیم کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن کا کہنا تھا کہ جاں بحق افراد میں 9 بچے بھی شامل ہیں جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ان کا کہنا تھا کہ فضائی کارروائی میںں ’40 سے زیادہ کشتیوں’ کو نشانہ بنایا گیا جو البولیل شہر سے شہریوں کو لے کر دیرالزور کے ساحل کی طرف آرہی تھیں۔مبصر تنظیم شام میں کام کرنے والے نیٹ ورک کے ذرائع سے معلومات حاصل کرتی ہے اور اس بات کا تعین کرتی ہے کہ واقعات میں کس اتحاد کے جہازوں کا استعمال ہوا ہے اور اس کے علاوہ واقعے کا مقام، پرواز کے پیٹرن اور گولیاں کے استعمال کا تعین بھی کیا جاتا ہے۔یاد رہے کہ روس نے شامی صدر بشارالاسد کے اتحادی کی حیثیت سے ان کی حمایت کیلیے ستمبر 2015 میں شام مداخلت کی تھی۔اس تازہ کارروائی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ شامی فوج نے روسی فضائیہ کی مدد سے دیرالزور میں موجود دہشت گرد گروہ دولت اسلامیہ (داعش) کے اراکین کو نشانہ بنایا ہے۔دوسری جانب امریکی حمایت یافتہ کردش اور عرب جنگجو بھی دیرالزور میں داعش کے خلاف متحرک ہوگئے ہیں۔خیال رہے کہ شامی ڈیموکریٹک فورسز(ایس ڈی ایف) نے ایک روز قبل اعلان کیا تھا کہ انھوں نے فرات کے مشرقی علاقے کو داعش سے صاف کرنے کا آغاز کردیا ہے۔برطانی مبصر تنظیم کا کہنا تھا کہ ایس ڈی ایف کے دیرالزور ملٹری کونسل نے یک طرفہ آگے بڑھتے ہوئے علاقوں پر قبضہ کیا ہے اور صوبائی دارالحکومت دیرالزور سے چندکلومیٹر دور ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…