اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

پاناما فیصلے پر نظرثانی کی اپیل،فیصلہ کیا آئے گا؟ایازصادق نے پیش گوئی کردی

datetime 9  ستمبر‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی)اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ اگر ہم پاکستان کی بقاء اور اسے مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں تو ہر ادارے کواپنے دائرہ کار میں رہنا ہوگا کیونکہ اس راستے سے ہٹنے کا نقصان ہوگا ،اداروں اور محکموں کی سوچ کچھ اور ہوتی ہے لیکن کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا تے ہیں ، پاکستان اس وقت مشکلات میں گھرا ہوا ہے جس کا مقابلہ صرف اتحاد سے ہی ممکن ہے ،

جے آئی ٹی کے رپورٹ مفروضوں اورفوٹو کاپیوں پرمشتمل ہے ، پانامہ فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل پر 12ستمبر سے سماعت شروع ہو رہی ہے اس کے اچھے نتائج آئیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اچھرہ رحمان پورہ میں سڑک کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ سردار ایاز صادق نے کہا کہ ایک سال سے تشویش تھی کہ فیصلہ نواز شریف کے خلاف آنے والا ہے،ہم نے سپریم کورٹ کا فیصلہ من وعن مانا لیکن فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے ،نیب ریفرنسز جے آئی ٹی رپورٹ پر دائر کئے گئے ہیں جو مفروضوں اور فوٹو کاپیوں پر مشتمل ہے ۔ جے آئی ٹی میں آنے والی دستاویزات کے ذرائع کا ہی پتہ نہیں۔12ستمبر کو نظر ثانی اپیل پر سماعت شروع ہو رہی ہے ، کیس چلے گا تو دیکھا جائے گا اور ہمیں امید ہے کہ اچھے نتائج آئیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ پاکستان کی بقا ء اور اسے مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں تو ہر ادارے کو اپنے دائرے میں رہنا ہوگا ،اداروں میں تصادم غیر مناسب ہے،اگر ادارے اپنی حدود سے باہر نکلیں تونقصان پاکستان کاہوگا،ہماری خواہش ہے کہ کوئی ایسا اقدام نہ اٹھایا جائے جس سے ملک کو نقصان ہو ،کچھ افراد ایسے ہیں جو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بناناچاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کی جنگ میں بہت نقصان اٹھایا ، ہمارے جوانوں نے جانوں کے نذرانے دیئے ، 125ارب ڈالر کا نقصان ہوا ،ہمیں دہشتگردی کی جنگ کیخلاف ہمیشہ گلی محلے میں بھی چوکنارہناہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا ہر فیصلہ ہمیں قبول ہوگا،وہ جسے پارٹی قائد بنائیں گے وہ ہمارا قائد ہوگا ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے بہت جدوجہد کی ،سیاست میں مریم بیٹی ہے مشکل حالات میں نکلی ہیں وہ بہت جلد میچورہوں گی۔انہوں نے بتایا کہ خواجہ آصف سے چھ ستمبر کو ملاقات ہوئی ہے وہ کہتے ہیں اب بین الاقوامی پالیسی بنائیں گے تاکہ مشکلات دور ہو سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…