اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

داعش کا مارا جانیوالا خود ساختہ خلیفہ ابو بکر الغدادی زندہ نکلا،

datetime 8  ستمبر‬‮  2017 |

ماسکو(این این آئی)دنیا کی انتہائی خوفناک دہشت گرد تنظیم ’داعش‘ اور اس کے سربراہ ابو بکر البغدادی کو شام اور عراق میں پے درپے ہونے والی شکستوں کے بعد اب وہ زخمی بھیڑیے کی طرح انتقام لینے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔غیرملکی خبررسا ادارے کے مطابق عراق کے شہر موصل اور تل عفرمیں سرکاری فوج کے ہاتھوں بدترین شکست کا سامنا کرنے کے بعد البغدادی زیرزمین کسی خفیہ مقام پر روپوش ہے۔ ماہرین

کا کہنا تھا کہ البغدادی کا پتا چلانا اور اسے گرفتار کرنا آسان نہیں۔ پہلے تو اس کے ٹھکانے کا پتا چلانا مشکل ہی مشکل ہے۔ اس کے علاوہ اس تک رسائی ممکن نہیں کیونکہ اس کے گرد مقربین کا مضبوط حصار ہے جسے توڑنا آسان نہیں ہوگا۔ مبصرین کے مطابق البغدادی جہاں بھی روپوش ہے مگر وہ موصل، تلعفر اور الرقہ میں اپنی شکست کا بدلہ لینے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔عراق کے صوبہ کردستان کیانٹیلی سیکیورٹی انفارمیشن شعبے کے ایک عہدیدار لاھور طالبانی کا کہناتھا کہ البغدادی کے منصوبے کافی پیچیدہ ہیں۔ اس نے داعش سے وابستہ جنگجوؤں کے حوصلے بلند کرنے کے لیے مغربی ملکوں میں غیر معمولی انداز میں حملوں کی منصوبہ بندی کی ہے۔ یہ منصوبہ بندی دراصل داعش کوعراق اور شام میں لگنے والے شکست کے زخموں کا رد عمل ہے۔لاھور طالبانی نے کہا کہ البغدادی کو پکڑنا آسان نہیں۔ وہ اپنے قبیلے اور تنظیم کے انتہائی وفادار لوگوں کے حصار میں ہے۔ اس کے ارد گرد وہ لوگ ہیں جنہیں وہ عرصے سے جانتا ہے۔ البغدادی کسی ایسی جگہ ہے جہاں روشنی کا گذر بھی نہیں۔ کسی بھی ناگہانی کارروائی سے بچنے کے لیے وہ مواصلاتی آلات بھی استعمال نہیں کرتا۔ اسے اگر کوئی پیغام دینا ہوتا ہے تو اپنے اینجنٹوں کی مدد سے تنظیم کے اہم کارندوں تک پہنچاتا ہے۔عراق سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار اور جہادی تنظیموں کے امور کیماہر ھشام الھاشمی کا کہنا تھا کہ

داعشی خلیفہ البغدادی وادی فرات میں شام کے علاقے البوکمال اور عراق کے القائم شہروں کے درمیان کسی جگہ روپوش ہوگا۔مبصرین کا کہناتھا کہ داعش نے عراق اور شام میں شکست کے بعد افغان طالبان کی پالیسی اپنائی ہے۔ جس طرح سنہ 2001ء میں طالبان نے اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد غیرملکی فوج کے خلاف گوریلا کارروائیوں کا آغاز کیا اور اس کی قیادت روپوش ہوگئی تھی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ داعش کو شہروں میں شکست تو ہوئی ہے مگر اس کی جنگی مہارت اور لڑائی کی صلاحیت پر زیادہ اثر نہیں پڑا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…