بدھ‬‮ ، 04 ‬‮نومبر‬‮ 2026 

پا کستان امریکہ کا محتا ج نہیں،مزید دباؤ ڈالا تو امریکہ کے ساتھ کیا ہوگا؟امریکی سی آ ئی اے کے سابق سر براہ نے ٹرمپ کوخطرناک انتباہ کردیا

datetime 29  اگست‬‮  2017 |

نیویارک(آن لائن) امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ مائیکل موریل نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی امداد بند یا کم کرکے اس پر دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا امریکہ کا پاکستان پر ناجائز دباؤ کا حربہ کارگر نہیں ہوگا البتہ اس دباؤ سے امریکہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے پاکستان کو نہیں کیونکہ پاکستان امریکی امداد سے آزاد ہوچکا ہے،چین جیسے دوست کی امداد اسے حاصل ہے اور امریکہ پاکستان کی فضائی اور زمینی راستوں کا محتاج ہے جس کے تعاون کے بغیر یہ جنگ امریکہ جیت نہیں سکتا۔

سی آئی اے کے سابق قائم مقام سربراہ مائیکل موریل نے ایک حالیہ انٹرویو میں صدر ٹرمپ کی تقریر پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ہم کس قدر پالیسی میں تبدیلی پر آمادہ کرسکتے ہیں کہ وہ طالبان کی حمایت سے کنارہ کش ہوجائے تاہم ایران اور روس کی امداد سے طالبان میں ایک نئی قوت پیدا ہوچکی ہے ان میں نظریاتی عنصر ایسا ہے جسے شکست دینا ناممکن ہے وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔انہو ں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی واضح نہیں ہے نہ ہی انہوں نے کوئی پلان دیا ہے کہ کتنی فوج بھیجی جائیگی اور اس کا رول کیا ہوگا جبکہ انہوں نے افغان حکومت کے کردارکی بھی وضاحت نہیں کی ۔انہوں نے افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلاء کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے لئے اس سے آسانیاں پیدا ہوں گی تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکی افواج کی زمین پر موجودگی میں اضافہ ہوتا ہے تو طالبان کی کارروائیوں سے امریکی فوجیوں کے تابوت پہنچنے پر امریکہ میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔مائیکل موریل نے مزید کہا کہ طالبان کے اثرورسوخ کو روکنے کیلئے افغان حکومت کی کرپشن کے خاتمے اور افغان فوج کی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اگر ہارے نہ بھی تو جنگ جیت نہیں سکتا۔انہوں نے کہا کہ طالبان کی جنگ نظریاتی ہے ایران اور روس کی پالیسیوں کا جائزہ لینا ضروری ہے جبکہ پاکستان کو آمادہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ طالبان کی حمایت سے دست کش ہوجائے پاکستان پر دباؤ کارگر نہیں ہوگا

وہ امریکی امداد سے آزاد ہوچکا ہے،چین اسکی ہر قسم کی مدد کر رہا ہے،ماضی میں بھی امریکہ امداد بند کرکے دیکھ چکا ہے لہٰذا طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے اس کا سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا،پاکستان کو دباؤ میں لاکر اسے غیر مستحکم کرنا کسی طرح بھی سود مند نہیں ہے،واحد حل سیاسی ہے کہ طالبان سے مذاکرات کئے جائیں۔

انہوں نے افغانستان میں نیٹو اور امریکی افواج کے کمانڈر جنرل نکلسن کے انٹرویو کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے بھی افغان مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیا ہے،کمانڈر کا بھی خیال ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ہی مسئلہ حل ہوگا،طالبان کو بھی یہ احساس ہے کہ وہ جنگ جیت نہیں سکتے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سٹوڈنٹ لسٹ


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

Mind The Gape

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مہاراجہ ہری سنگھ کے جواہرات

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مرنے کے علاوہ

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

درگزر کیا کریں

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…