اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

انڈونیشیا میں عوام کو بندروں سے بچانے کیلئے مسلح فورس تعینات

datetime 8  اگست‬‮  2017 |

جکارتا(مانیٹرنگ ڈیسک) انڈونیشیا نے جزیرہ جاوا میں شہریوں پر بندروں کے بڑھتے ہوئے حملوں اور چوری کے واقعات کے بعد عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لئے مسلح فورس تعینات کردی ہے۔جاوا کے جزائر میں بندر اب نہ صرف لوگوں کی اشیاء اور کھانا چھین کر فرار ہو رہے ہیں بلکہ موقع ملنے پر تنہا بچوں اور بوڑھوں پر حملے کر کے انہیں زخمی بھی کر رہے ہیں۔

لمبی دم والے مکاک بندر مرکزی جاوا کے ضلعے بویولالی میں دھیرے دھیرے انسانوں سے بے خوف ہو رہے ہیں اور ان کی جانب سے انسانوں کو تنگ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔علاقے کے پولیس سربراہ آرائیس آندی کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں دو ماہ قبل بندروں کی زیادہ آمد شروع ہوئی اور جب ایک بندر کو گولی ماردی گئی تو ان کی آمد کا سلسلہ تھم گیا لیکن اب بندروں نے دوبارہ دھاوا بول دیا ہے۔ اب پولیس فورس کو اجازت ہے کہ وہ ضروری سمجھیں تو بندروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، اس کے علاوہ شرارتی بندروں کو پکڑنے کے لئے پولیس اہلکاروں کو خصوصی جال بھی فراہم کئے گئے ہیں۔پولیس حکام کے مطابق جب تک بندر انسانوں کو نہیں ستاتے ہم ان پر گولی نہیں چلائیں گے۔ پولیس کے ساتھ ساتھ مقامی افراد بھی علاقے کا گشت کرتے ہیں تاکہ بندروں کے شر سے گاؤں کو محفوظ رکھا جا سکے۔ اب تک بندروں نے 11 افراد پر حملہ کیا ہے جن میں ایک چار سالہ بچہ بھی شامل ہے۔دوسری جانب مرکزی جاوا میں جنگلی حیات کا تحفظ کرنے والے افراد کہتے ہیں کہ قدرتی جنگلات کی تباہی سے ان بندروں کے گھراجڑ چکے ہیں اور وہ انسانوں کے علاقوں میں داخل ہوگئے ہیں اس لئے انہیں مار ڈالنا کسی بھی طرح جائز نہیں۔ انڈونیشیا کی انٹرنیشنل اینیمل ریسکیو تنظیم سے وابستہ ربی صوت الہدیٰ نے کہا کہ ’ یہ جانور بھوک کی وجہ سے گھروں سے کھانا اٹھا رہے ہیں کیونکہ ان کے جنگلات میں پائن اور ٹیک کے درخت کاٹ کر تجارتی شجرکاری کی جا رہی ہے اور وہ اب ان کے رہنے کے قابل نہیں رہے۔‘خیال رہے کہ پٹاخون اور غلیلوں سے بھی بندروں کو بھگانے کی کوشش کی گئی لیکن اس میں خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…