ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

چین کب حملہ کرے گا؟اعلان کردیاگیا، بھارتیوں کے ہوش اُڑ گئے

datetime 7  اگست‬‮  2017 |

بیجنگ(آئی این پی)چین کا بیان کہ چین بھارتی فوجیوں کو اپنے علاقے دوکھلم سے نکالنے کے لئے محدود پیمانے پرفوجی کارروائی کر سکتا ہے نے ہندوستانی میڈیا اور بھارتی عوام میں ہلچل کا باعث بن گیا ہے، چین دو ہفتوں میں یہ کارروائی انجام دے سکتا ہے، بھارت کا یہ کہنا ہے کہ تمام تنازعات کے حل کا واحد طریقہ مذاکرات ہیں،بھارتی نژاد یوکرینی ماہر اقتصادیات کا کہنا ہے کہ بھارتی جانب سے امریکی مداخلت جنگ کی آگ کو ہوا دے سکتی ہے،

بھارت بغیر امریکی امداد کے چین کے سامنے کھڑا نہیں رہ سکتا، بھارت کی خود اعتمادی امریکہ سے بڑھتے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، چین کے معروف روز نامہ پیپلز ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق چینکا یہ بیان کہ چین بھارتی فوجیوں کو اپنے علاقے دوکھلم سے نکالنے کے لئے محدود پیمانے پرفوجی کارروائی کر سکتا ہے نے ہندوستانی میڈیا اور بھارتی عوام میں ہلچل کا باعث بن گیا ہے،شنگھائی اکیڈمی میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے ایک محقق ہویو جیوونگ نے گلوبل ٹائمز سے انٹرویو کے دوران بتایا کہ بلا شبہ بھارت ایک ابھرتی ہوئی بڑی معیشت ہے لیکن اس کے بر عکس چین ایک مسلمہ بڑی فوجی طاقت ہے چین اپنے علاقے کو خالی کرانے کے لئے دو ہفتوں میں یہ کارروائی انجام دے سکتا ہے ان کا یہ بیان بھارتی اخبارات کی زینت ایسا بنا کہ بھارتی میڈیا میں ایک ہلچل دکھائی دینے لگی اور عوامی سطح پر بھی اس کی بازگشت سنائی دینے لگی۔ بھارتی میڈیا نے اپنے بیانات کا انداز بدل ڈالا اور اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے فوری طور پر مذاکرات کے بیانات جاری کئے جانے لگے۔بھارتی میڈیا نے اپنی وزیر خارجہ شسما سوراج کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ بھارت چین کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل کا حل چاہتا ہے اسی لئے بھارت نے چین میں منعقدہ اقتصادی کانفرنس میں شرکت کی تھی تا کہ اس عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔بھارتی نژاد یوکرائنی ماہر اقتصادیات کا کہنا ہے کہ بھارتی جانب سے امریکی مداخلت جنگ کی آگ کو ہوا دے سکتی ہے۔

بھارت بغیر امریکی امددا کے چین کے سامنے کھڑا نہیں رہ سکتا۔ بھارت کی خود اعتمادی امریکہ سے بڑھتے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے ۔ بالکل اسی طرح خطے میں قدم جمانے کے لئے امریکہ کو بھارت کی اشد ضرورت ہے۔چین مغربی عمومی یونیورسٹی کے سینٹر آف انڈیا سٹڈیز کے ڈائریکٹر لانگ زننگچون نے بھی گلوبل ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ فوجی کارروائی علاقے کی صورتحال کو خراب بھی کر سکتی ہے ۔

اگر امریکہ بھارت کی جانب سے مداخلت کرتا ہے تو یہ کارروائی بڑھے گی اور جنگ کی صورت پیدا ہو جائیگی جس میں پھر کچھ اور ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں ۔ بھارت کو امریکی امداد پر انحصار نہیں کرنا چاہئے امریکہ قابل اعتماد شراکت دار نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…