بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

چین کب حملہ کرے گا؟اعلان کردیاگیا، بھارتیوں کے ہوش اُڑ گئے

datetime 7  اگست‬‮  2017 |

بیجنگ(آئی این پی)چین کا بیان کہ چین بھارتی فوجیوں کو اپنے علاقے دوکھلم سے نکالنے کے لئے محدود پیمانے پرفوجی کارروائی کر سکتا ہے نے ہندوستانی میڈیا اور بھارتی عوام میں ہلچل کا باعث بن گیا ہے، چین دو ہفتوں میں یہ کارروائی انجام دے سکتا ہے، بھارت کا یہ کہنا ہے کہ تمام تنازعات کے حل کا واحد طریقہ مذاکرات ہیں،بھارتی نژاد یوکرینی ماہر اقتصادیات کا کہنا ہے کہ بھارتی جانب سے امریکی مداخلت جنگ کی آگ کو ہوا دے سکتی ہے،

بھارت بغیر امریکی امداد کے چین کے سامنے کھڑا نہیں رہ سکتا، بھارت کی خود اعتمادی امریکہ سے بڑھتے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، چین کے معروف روز نامہ پیپلز ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق چینکا یہ بیان کہ چین بھارتی فوجیوں کو اپنے علاقے دوکھلم سے نکالنے کے لئے محدود پیمانے پرفوجی کارروائی کر سکتا ہے نے ہندوستانی میڈیا اور بھارتی عوام میں ہلچل کا باعث بن گیا ہے،شنگھائی اکیڈمی میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے ایک محقق ہویو جیوونگ نے گلوبل ٹائمز سے انٹرویو کے دوران بتایا کہ بلا شبہ بھارت ایک ابھرتی ہوئی بڑی معیشت ہے لیکن اس کے بر عکس چین ایک مسلمہ بڑی فوجی طاقت ہے چین اپنے علاقے کو خالی کرانے کے لئے دو ہفتوں میں یہ کارروائی انجام دے سکتا ہے ان کا یہ بیان بھارتی اخبارات کی زینت ایسا بنا کہ بھارتی میڈیا میں ایک ہلچل دکھائی دینے لگی اور عوامی سطح پر بھی اس کی بازگشت سنائی دینے لگی۔ بھارتی میڈیا نے اپنے بیانات کا انداز بدل ڈالا اور اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے فوری طور پر مذاکرات کے بیانات جاری کئے جانے لگے۔بھارتی میڈیا نے اپنی وزیر خارجہ شسما سوراج کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ بھارت چین کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل کا حل چاہتا ہے اسی لئے بھارت نے چین میں منعقدہ اقتصادی کانفرنس میں شرکت کی تھی تا کہ اس عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔بھارتی نژاد یوکرائنی ماہر اقتصادیات کا کہنا ہے کہ بھارتی جانب سے امریکی مداخلت جنگ کی آگ کو ہوا دے سکتی ہے۔

بھارت بغیر امریکی امددا کے چین کے سامنے کھڑا نہیں رہ سکتا۔ بھارت کی خود اعتمادی امریکہ سے بڑھتے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے ۔ بالکل اسی طرح خطے میں قدم جمانے کے لئے امریکہ کو بھارت کی اشد ضرورت ہے۔چین مغربی عمومی یونیورسٹی کے سینٹر آف انڈیا سٹڈیز کے ڈائریکٹر لانگ زننگچون نے بھی گلوبل ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ فوجی کارروائی علاقے کی صورتحال کو خراب بھی کر سکتی ہے ۔

اگر امریکہ بھارت کی جانب سے مداخلت کرتا ہے تو یہ کارروائی بڑھے گی اور جنگ کی صورت پیدا ہو جائیگی جس میں پھر کچھ اور ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں ۔ بھارت کو امریکی امداد پر انحصار نہیں کرنا چاہئے امریکہ قابل اعتماد شراکت دار نہیں ہے۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…