منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

یمن پر جاری فضائی حملوں میں کس ملک کا کتنا حصہ ہے ؟

datetime 1  اپریل‬‮  2015 |

صنعاء(نیوز ڈیسک) سعودی عرب کی قیادت میں متعدد اتحادی ملکوں نے گزشتہ ہفتے یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کیا جو وہ ابھی تک جاری ہیں۔ سعودی عرب اپنی ہی سربراہی میں قائم ہونے والے اس عسکری اتحاد میں اپنے جنگی طیاروں کے ذریعے حوثی شیعہ باغیوں پر بار بار حملے کر رہا ہے۔ ان حملوں کا نشانہ باغیوں کی حامی طاقتیں بھی ہیں، جن میں سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے حمایتی فورسز بھی شامل ہیں۔ عرب ٹی وی کے مطابق ان کارروائیوں کے لیے سعودی حکومت 100 سے زائد جنگی طیاروں، ڈیڑھ لاکھ سے زائد فوجیوں اور اپنے بحری دستوں کو بھی حرکت میں لا چکی ہے۔ سعودی ملٹری کے مطابق ان کارروائیوں میں جنگی طیاروں، فضائی اڈوں، حوثی باغیوں کے کیمپوں اور میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سات عرب امارات پر مشتمل ریاست متحدہ عرب امارات بھی ان فضائی حملوں میں اپنے جنگی طیاروں کے ساتھ شامل ہے، جو یمن میں باغیوں کی اسکڈ میزائل تنصیبات اور حوثیوں کی عسکری اور دفاعی پوزیشنوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یو اے ای کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق ان کارروائیوں میں متحدہ عرب امارات کے 30 جنگی طیارے سرگرمی سے حصہ لے رہے ہیں۔ خلیجی ریاست کویت نے اس آپریشن کے لیے اپنے 15 جنگی طیارے مہیا کیے ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا یہ جنگی ہوائی جہاز عملی طور پر یمن میں اہداف پر حملوں میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔ خلیج کی چھوٹی سی جزیرہ ریاست بحرین نے ان کارروائیوں کے لیے اپنی فضائیہ کے 12 جنگی طیارے فراہم کیے ہیں۔ یہ بات غیر واضح ہے کہ آیا یہ طیارے عملا یمن میں اہداف کو نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔ قطر کی حکومت نے ایک اتحادی ملک کے طور پر ان حملوں کے لیے 10 فائٹر جیٹ مہیا کیے ہیں، جن کے بارے میں یہ واضح نہیں کہ آیا وہ بھی یمن میں فضائی حملوں میں شریک ہیں۔ افریقی ریاست سوڈان نے اس عسکری اتحاد میں شامل ہوتے ہوئے سعودی عرب کو اپنے چار جنگی طیارے فراہم کیے ہیں۔ یہ بات سوڈانی وزیر اطلاعات احمد بلال عثمان نے بتائی۔ سوڈان نے اسی آپریشن کے دوران زمینی کارروائیوں کے لیے سعودی عرب کو اپنے چھ ہزار فوجی مہیا کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔ مصر کے بارے میں یقین کی حد تک اس شبے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اس نے ان کارروائیوں کے لیے اپنے جنگی طیارے اور بحری جہاز بھی مہیا کیے۔ اس بارے میں اعداد و شمار اور فضائی حملوں میں مصر کی شمولیت کے حوالے سے قاہرہ حکومت مکمل طور پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ وائٹ ہاو¿س کے ایک ترجمان کے مطابق امریکی صدر باراک اوباما نے اس امر کی اجازت دے رکھی ہے کہ ان فضائی حملوں کے لیے سعودی عرب کو لاجسٹکس اور اہداف کی نشاندہی کےلئے انٹیلی جنس کے شعبوں میں مدد فراہم کی جائے۔ امریکا ان حملوں میں براہ راست حصہ نہیں لے رہا۔ اردن کے حکام کے مطابق یہ عرب ریاست بھی اس اتحاد میں حصہ لے رہی ہے۔ فضائی حملوں میں اپنے ملک کی شرکت کے حوالے سے اردن کے حکام خاموش ہیں۔ مراکش بھی یمنی باغیوں کے خلاف اس اتحاد کی حمایت کر رہا ہے تاہم حکومت نے اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔ پاکستان نے اس اتحاد کے مشن کی حمایت کی ہے لیکن اب تک فضائی حملوں میں عملاً کوئی حصہ نہیں لیا۔ اسلام آباد حکومت نے یمن میں محصور پاکستانی شہریوں کو نکالنا شروع کر دیا ہے۔ افریقی ملک صومالیہ کے میڈیا کے مطابق موغادیشو حکومت نے بھی اس عسکری اتحاد کی حمایت کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…