پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

لکھوی کا معاملہ عدالت میں ہے ،بھارت از خود نتائج نکالنے سے باز رہے،پاکستان

datetime 31  مارچ‬‮  2015 |

نئی دہلی(نیوز ڈیسک) بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا ہے کہ ذکی الرحمان لکھوی کا معاملہ عدالت میں بھارت جلد بازی میں از خود نتائج نکالنے سے باز رہے،تحمل مزاجی سے عدالتی فیصلے کا انتظار کیا جائے،بھارت کی شرح ترقی میں اضافے کا خیرمقدم کرتے ہیں،اقتصادی ترقی سے بھارت کے ساتھ دوسرے سارک ممالک بھی ابھریں گے،خطے کے ممالک کو غربت اور جہالت کے خاتمے گوں کا معیار زندگی بلند کرنے ، بیماریوں کے تدارک سمیت چیلنجز سے نمٹنے اور اہداف کے حصول کے لئے مل کر کام کرنا ہو گا۔نئی دہلی میں ایک بھارتی چیمبر آف کامرس کی تقریب سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا کہ ممبئی حملوں کے مبینہ ملزم ذکی الرحمان لکھوی کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔بھارت کو تحمل مزاجی سے عدالتی فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے،جلد بازی میں نتائج اخذ کرنا درست نہیں ہے۔ یوم پاکستان کی تقریب میں بھارتی وزیر مملکت برائے امور خارجہ اور سابق بھارتی آرمی چیف وی کے سنگھ کی شرکت اور بعد میں متنازعہ بیان سے متعلق سوال پر عبدالباسط نے جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا میں اس معاملے پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔وہ تقریب میں ہمارے مہمان خصوصی تھے اور انھوں نے تقریب میں بھارتی حکومت کی نمائندگی کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم بھارت کی شرح ترقی میں اضافے کا خیرمقدم کرتے ہیں بھارت کی اقتصادی ترقی کا پورے خطے کو فائدہ ہو گا اور بھارت کے ساتھ تمام سارک ممالک بھی بھارت کے ساتھ ابھریں گے۔انھوں نے کہا کہ سارک ممالک کے درمیان تجارت کا فروغ پورے خطے کے لئے اہم ہے۔ اقتصادی سفارتکاری کے ذریعے خطے کے ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ہم علاقائی تعاون کو فروغ دے کر ہی عالمی سپلائی چین کا حصہ بن سکتے ہیں۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا بھارت آنے والے برسوں میں اپنی اقتصادی ترقی کے اہداف حاصل کر لے گا۔امید ہے سارک ممالک آنے والے دنوں اور برسوں میں ترقی کے اہداف حاصل کر لیں گے۔انھوں نے کہا کہ 19واں سارک سمٹ اگلے سال پاکستان میں ہو گا۔انھوں نے کہا کہ ہمیں خطے سے غربت اور جہالت کے خاتمے، لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے ، بیماریوں کے تدارک سمیت چیلنجز سے نمٹنے اور اہداف کے حصول کے لئے مل کر کام کرنا ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…