جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

’’عالمی دبائو جائے بھاڑ میں ‘‘ ایران کیا کام کرنے جا رہا ہے ؟ دھماکے دار انکشاف

datetime 24  جولائی  2017 |

تہران(این این آئی)ایرانی وزارت دفاع نے عالمی دباؤ اور امریکی مطالبات کو نظرانداز کرتے ہوئے نئے میزائلوں کی تیاری کے منصوبے کا افتتاح کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق جنگی مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے والے میزائلوں کی نئی لائن کے افتتاح کے موقع پر ایرانی وزیر دفاع حسین دھقان نے کہا کہ

ان کا ملک دفاعی شعبے میں مزید منصوبوں پر بھی کام شروع کرے گا۔انہوں نے اس نئے میزائل’شکار 3‘ کے بارے میں بتایا کہ یہ 27 کلو میٹر بلندی پر 120 کلو میٹر دور اپنے ہدف کو درست انداز میں نشانہ بنانے کی صلاحیت کا حامل طاقت ور میزائل ہوگا۔حسین دھقان کا کہنا تھا کہ مذکورہ میزائل سے جنگی طیاروں، ڈرون طیاروں، کروز میزائلوں اور جنگی ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا جاسکے گا۔ایران کی طرف سے نئی میزائل لائن کا افتتاح ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب کہ چند ہی روز قبل امریکی حکومت نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے تسلسل پر تہران پر اقتصادی پابندیاں عاید کی ہیں۔مبصرین کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر جوہری معاہدے کی شرائط پرعمل درآمد یقینی بنانے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران پر عاید کردہ نئی پابندیوں کی فہرست میں اٹھارہ ادارے اور شخصیات شامل ہیں۔ پابندیوں کا سامنا کرنے والے افراد اور اداروں پر دہشت گرد تنظیموں کو مالی معاونت میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…