جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

آزمائشوں کادورختم،صدر ممنون حسین نے خوشخبری سنادی

datetime 19  جولائی  2017 |

لاہور (آئی این پی) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاکستان آزمائشوں کے دور سے نکل کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو گیا ہے ، ترقی کی رفتار کو مزید بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ قوم کا ہر فرد خاص طور پر سرکاری انتظامیہ پورے جوش و جذبے کے ساتھ کام کرے۔صدر مملکت نے یہ بات نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی میں 106 ویں نیشنل مینجمنٹ اور اکیسویں سینئر مینجمنٹ کورسز کے شرکا میں تقسیم اسناد کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔

صدر مملکت نے کہا کہ دنیا میں صرف وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جن کے افراد اور ذمہ داران قومی امور کے سلسلے میں زندگی کے ہر مرحلے پر پر عزم اور متحرک رہ کر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیتے ہیں ۔ قومی زندگی کے کسی مرحلے پر اگر کارِسرکار کی انجام دہی اور عوامی خدمات کی ادائیگی کے دوران یہ کیفیات سرد پڑتی ہوئی محسوس ہوں تو سمجھ لینا چاہیے کہ معاملات زوال کا شکار ہیں جن سے بچنے کی ضرورت ہے ۔ انھوں نے کہا کہ چیلنجوں سے برسرپیکار رہنے والی قومیں ہی اقوام عالم میں اپنا مثبت نقش ثبت کرسکتی ہیں ۔ پاکستانی قوم گزشتہ ستر برس کے دوران مختلف چیلنجوں سے نبردآزما رہی ہے اور اب اللہ کے فضل و کرم سے ان قربانیوں کا پھل حاصل کرنے کا وقت آپہنچا ہے ۔انھوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر اور فعالیت کے مراحل اسی جو ش وجذبے کے متقاضی ہیں جو قیام پاکستان کے بعد استحکام پاکستان کی جدوجہد کے زمانے میں دیکھا گیا۔ انھوں نے توقع ظاہر کی کہ وطنِ عزیز کے دردمند فرزند کی حیثیت سے سرکاری مشینری اور قوم کا ہر فرد اپنے دل سے یہ جذبہ کبھی ماند نہیں پڑنے دے گا ۔صدر مملکت نے کہا کہ افرادِملت اور ذمہ دارانِ ریاست کے دلوں میں اگر یہ جذبہ ہمہ وقت برقرار رہے تو پھر کسی کو آئین کی پاسداری کے لیے دہائی نہیں دینا پڑ تی اور نہ عوام کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ حکومت اور ریاستی اداروں نے انھیں حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ رکھا ہے،

جس ملک کی انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے ان سنہری اصولوں کی پاسداری کرے ، اس کی ترقی کی راہ میں کبھی کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوسکتی۔ ملازمت کے مختلف مراحل پر کارپر دازانِ ریاست کی تربیت کے لیے ایسے کورسز کے انعقاد کی حکمت بھی یہی ہے۔ صدرمملکت نے اس موقع پر کورسز مکمل کرنے والے افسروں میں سرٹیفکیٹ تقسیم کیے جبکہ نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی کے ریکٹر عظمت علی رانجھا نے بھی خطاب کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…