جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

اس شخص کے پاس پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی مکمل تفصیلات موجود ہیں اور تم نے اسے پاکستان سے باہر بھیج دیا

datetime 20  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ اجلاس میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا تحفظ کریں گے۔ سعودی عرب کی قیادت میں عسکری اتحاد کے حوالے سے جو بھی ضابطہ کار طے ہو گا اسے پہلے پارلیمینٹ میں پیش کریں گے۔

انہوں نے ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کی اسلامی عسکری اتحاد کی سربراہی کرنے کے بارے میں بتایا کہ راحیل شریف ابھی کسی باقاعدہ فوج کی سربراہی نہیں کر رہے کیونکہ ابھی تک کوئی باقاعدہ فوج بنی ہی نہیں ہے کیونکہ جب تک اسلامی عسکری اتحاد کے ٹی او آر نہیں بنتے جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف اس وقت تک فوج کی کمان نہیں سنبھالیں گے۔اس پر چئیرمین سینیٹ رضا ربانی نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا جب ٹی او آرز ہی نہیں بنے تو حکومت نے انہیں کمان کرنے کی کیسے اجازت دے دی ابھی تو جنرل راحیل کی ریٹائرمنٹ کی دستاویز کی روشنائی ہی خشک نہیں ہوئی اور آپ نے ایک شخص کو اتنی اہم جگہ بھیج دیا جس کو ہمارے ایٹمی اثاثوں سمیت تمام معاملات کا علم ہے اور آپ کو اس کے ٹی او آر کا ہی نہیں پتہ۔ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف اسی پالیسی کو اپنائیں گے جس کی پارلیمنٹ منظوری دے گی۔ اس موقع پر چیئرمین سینٹ رضا ربانی نےکہا کہ اس سے قبل بھی پاکستانی فوجی سعودی عرب میں خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں جن کا رینک اتنا ہائی نہیں تھا مگر اب ایک سابق آرمی چیف کو سعودی عرب بھیجا گیا جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ اتحاد کے ٹی او آرز ابھی تک طے نہیں ہوئے۔

جس پر سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ یہ بات صحیح ہے کہ اسلامی عسکری اتحاد کے ٹی او آرز ابھی تک طے نہیں ہو پائے کیونکہ اتحاد میں شامل وزرائے دفاع کا اجلاس نہیں ہو پایا جس میں ٹی او آرز طے ہونا تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی عسکری اتحاد اور عرب اتحاد میں فرق ہے۔ ہم اسلامی عسکری اتحاد کا حصہ ہیں جس کا یمن کی لڑائی سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف اسی پالیسی کو اپنائیں گے جس کی پارلیمنٹ منظوری دے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…