جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کاگاڑیوں کے بعد ٹیلی فون کی مونوٹائزیشن پالیسی لانے کا فیصلہ ،حیرت انگیزتفصیلات سامنے آگئیں

datetime 17  جولائی  2017 |

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی حکومت نے گاڑیوں کی مونوٹائزیشن پالیسی کے بعد ٹیلی فون کی مونوٹائزیشن پالیسی لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس حوالے سے کابینہ ڈویژن نے سمری تیار کر کے متعلقہ ادارے کو بھجوا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق کابینہ ڈویژن نے سرکاری ملازمین کے لئے ٹیلی فون کی مونوٹائزیشن پالیسی بلانے کے حوالے سے کام مکمل کر لیا ہے۔

ٹیلی فون کی مونوٹائزیشن گریڈ17سے22کے افسران کو دی جائے گی۔ پالیسی کے تحت جو بھی افسر سرکاری نمبر کی سہولت حاصل نہیں کرنا چاہتا اس کو ٹیلی فون الاؤنس کی مد میں رقم دی جائے گی۔ اس وقت گریڈ17کا سرکاری افسر13سو روپے ٹیلیفون الاؤنس لے رہا ہے جو کہ گریڈ22کے افسر کے لئے 5ہزار روپے کے لگ بھگ ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹیلی فون مونوٹائزیشن سے 80فیصد افسران فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس سے نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریچن کو سالانہ100ملین روپے کا نقصان ہو سکتا ہے کیونکہ جب افسران مونوٹائزیشن الاؤنس حاصل کریں گے تو این ٹی سی کی آمدن میں کمی وقع ہو گی۔ این ٹی سی پاکستان میں نمبر کی سہولیات فراہم کرنے والا خود مختار ادارہ ہے۔ ٹیلی فون کی مونوٹائزیشن کابینہ ڈویژن نے غور و خوص کے لئے متعلقہ اداروں کو بھجوا دی ہے جس کے بعد کابینہ نے اس کی منظوری لی جائے گی۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے 2011ء میں گاڑیوں کی مونوٹائزیشن پالیسی کا اعلان کیا تھا یہ پالیسی20سے22گریڈ کے افسر حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ پالیسی نہ صرف ناکام ہوئی بلکہ افسران گاڑیاں رکھنے کے ساتھ ساتھ الاؤنس بھی وصول کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…