جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

’’مفتی عبدالقوی نے میرے ساتھ یہ کام کیا ہے‘‘

datetime 16  جولائی  2017 |

ملتان (مانیٹرنگ ڈیسک ) بی بی سی کی رپورٹر ہانی طہٰ نے الزام لگایا ہے کہ مفتی عبدالقوی نے دوران انٹرویو انہیں چھونے کی کوشش کی جبکہ مفتی عبدالقوی نے ایسے کسی بھی فعل کی تردید کی ہے۔ہانی طہٰ کے مطابق اس نے مفتی عبدالقوی کے دفتر میں ان سے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے قندیل کے اہلِ خانہ بھی یہی بات دہراتے ہیں کہ مفتی عبدالقوی کی وجہ سے لوگ قندیل کے خلاف ہو گئے تھے

اور پھر ان کے بھائی کو بھی جن لوگوں نے ورغلایا وہ آپ کی وجہ سے ہی ہوا؟مفتی عبدالقوی نے الزام مسترد کرتے ہوئے کہا ’ابتدائی دنوں میں شاید کچھ لوگوں میں یہ بات آئی ہو کہ مفتی صاحب قصور وار ہیں۔ لیکن جو مجھے اور میرے خاندان کو جانتے ہیں جو میری گفتگو سے باخبر ہیں میں نہیں سمجھتا ان کے دل میں یہ بات تھی۔ہانی طہٰ کے مطابق مفتی عبدالقوی بضد تھے کہ وہ معصوم ہیں اور قندیل کا قتل خدا کی کرنی تھی۔لیکن ایک بات جس نے مجھے خود حیران کیا جب مفتی عبدالقوی نے مجھے چھونے کی کوشش کی،میں نے مفتی عبدالقوی سے کہا کہ مجھے نماز پڑھنی ہے تو انہوں نے مجھے میرے نام کا مطلب بتا نا شروع کر دیا اور اس کے بعد کیمرے کے سامنے میرے دونوں گالوں سے اپنی انگلیاں مس کیں، میں سمجھتی ہوں کہ وہ اس عمل کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کر سکتے ۔مفتی عبد القوی نے صحافیوں سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قندیل بلوچ کی برسی کے موقع پر دوبارہ سازشوں کا جال بننے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی مذمت کرتا ہوں، انہوں نے کہا کہ قندیل بلوچ کے قتل کے حوالے سے کوریج کے لئے آنے والی صحافی خاتون کا نا صرف احترام کیا بلکہ میز بان ہونے کے ناطے ان کی خدمت بھی کی ،کئی ماہ گزرنے کے بعد ان کی جانب سے مجھ پر الزامات لگانا سمجھ سے بالا تر ہے اگر ایسی کوئی بات اس خاتو ن نے محسوس کی تھی تو وہ فوری اس کی نشاندہی کرتی لیکن 10 ماہ بعد میری ذات پر الزامات لگانے سے ثابت ہو گیا کہ پہلے بھی قندیل بلوچ کے سلسلے میں میرے اوپر بہتان بازی کی گئی اور اب بھی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ قند یل بلوچ قتل نہیں بلکہ شہید ہوئی ،میں ہمیشہ قندیل کی مغفرت کے لئے دعا کرتا ہوں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…