جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں توہین رسالت کے خلاف ہنگامے پھوٹ پڑے ٗفوج طلب ، پولیس موبائلوں سمیت درجنوں گھر،دکانیں نذرآتش،سڑکیں بلاک ٗ ٹرینیں روک لی گئیں ، ہنگامی حالت نافذ

datetime 5  جولائی  2017 |

کولکتہ(این این آئی) بھارتی ریاست مغربی بنگال میں سوشل میڈیا پر توہین رسالت کے خلاف ہنگامے پھوٹ پڑے جس کے باعث فوج کو طلب کرلیا گیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست مغربی بنگال کے ضلع ’’نارتھ 24 پارگاناس‘‘ کے علاقے بدوریہ میں کالج کا ہندو طالب علم فیس بک پرتوہین رسالت کا مرتکب ہوا جس پر ہزاروں افراد میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور لوگ احتجاج کرتے ہوئے گھروں سے نکل آئے۔

مشتعل افراد نے 6 پولیس موبائلوں سمیت درجنوں گھروں اور دکانوں کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنادیا جب کہ رکاوٹیں کھڑی کرکے سڑکوں کو بلاک اور ٹرینوں کو روک دیا گیا ہے۔ حکومت نے متاثرہ مقامات میں انٹرنیٹ کی سروس بند کردی ہے اور غیر اعلانیہ ہنگامی حالت کا نفاذ ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق شدید بارش کے باوجود بھی سیکڑوں مظاہرین نے احتجاج کیا۔ انہوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر شاتم رسول کو پھانسی دینے کے مطالبات درج تھے۔ مظاہرین نے مقامی تھانے پر دھاوا بول دیا جس کی وجہ سے پولیس اہلکار تھانے کو چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ مشتعل ہجوم نے توہین رسالت کے ملزم کے گھر کو بھی نذر آتش کردیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر توہین رسالت مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی گھناؤنی سازش کا حصہ ہے۔حالات شدید خراب ہونے کی وجہ سے مرکزی حکومت نے پیرا ملٹری فورس کے اہلکاروں کو ریاست میں تعینات کردیا ہے ٗ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے طالب علم کو گرفتار کرلیا ہے۔مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے بی جے پی کے گورنر پر حالات کو خراب کرنے کا الزام عائد کیا کولکتہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گورنر کیشری ناتھ تری پاٹھی نے انہیں فون کرکے دھمکیاں دیں اور بی جے پی فسادات کی آگ کو مزید بھڑکانے کی کوشش کررہی ہے تاہم وہ حالات کی خرابی کے ذمہ دار افراد سے سختی سے نمٹیں گی۔ ممتا بنرجی نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ گورنر کو ریاستی معاملات میں مداخلت سے باز رکھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…