جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

روزانہ 4گھنٹے کی ورزش ،وزن گھٹانے کی سرجری کا متبادل بن سکتی ہے

datetime 29  مارچ‬‮  2015 |

لاس اینجلس (نیوزڈیسک)لاس اینجلس میں کی جانے والی ایک تحقیق کی روشنی میں ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ موٹاپے کا شکار افراد اگر روزانہ چار گھنٹے کی ورزش اور ڈائٹنگ کے شیڈول پر سختی سے عمل کریں تو اس سے وہی نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں جو کہ وزن کی کمی کیلئے سرجریز کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ اس سرجری کے نتیجے میں موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اس کے علاوہ مسلز کا ڈھیلا پڑ جانا، ہڈیوں کا پتلا ہونا اور ذہنی صحت کی خرابی جیسے مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس سرجری کو اگرچہ موٹاپے کا علاج تو تصور کیا جاتا ہے تاہم اسے زیادہ مقبول نہیں کیا جاسکا ہے۔اس تحقیق میں شامل ڈاکٹر رابرٹ نے شدید موٹاپے کا شکار لوگون کیلئے ایک پروگرام شروع کیا تھا جس کا بنیادی مقصد ایسے لوگوں کی مدد کرنا تھا جو موٹاپے کا شکار ہیں۔ ان افراد کیلئے ڈاکٹر رابرٹ نے باقاعدہ ایک ورزشی منصوبہ ترتیب دیا اور ان کے کھانے پینے کا بھی ایک شیڈول بنایا۔ سرجری کے برعکس اس ورزشی پروگرام کے ذریعے کیلوریز کے جلنے کی رفتار تیز ہوتی ہے جس سے مسلز کے مقدار میں اضافہ ہوتا ہے اور یوں ذیابیطس اور دیگر بیماریوں کیخلاف قوت مدافعت بڑھانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ اس ورزشی پروگرام کے تحت موٹے لوگوں کو ڈیڑھ گھنٹے کی سخت سرکٹ ٹریننگ ہفتے کے چھ دن کروائی گئی، اس کے ساتھ ساتھ ان کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ اس وقت کے علاوہ بھی دن میں تین گھنٹے ورزش پر صرف کریں۔ اس کے علاوہ انہیں کم چکنائی کی حامل پروٹین سے بھرپور خوراک اور تازہ پھل و سبزیاں بھی کھانے کیلئے دی گئیں۔ اس ورزشی منصوبے میں تیرہ مختلف لوگوں کو منتخب کیا گیا تھا، یہ تمام لوگ اسی قدر قد اور وزن کے حامل تھے جس کے حامل افراد عموماً وزن کم کرنے کی سرجریز کا سہارا لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ایسے لوگوں کا بھی مشاہدہ کیا گیا جو کہ سرجری سے گزرے تھے۔ تقریباً سات ماہ تک جاری رہنے والی اس تحقیق کے دوران اس گروہ میں شامل ہر فرد نے تقریباً48.8کلو گرام کے قریب وزن کم کیا تھا جس کے بعد انہیں ورزشی پرورگرام سے خلاصی مل گئی دوسری جانب آپریشن کے ذریعے اتنے ہی وزن کے حامل افراد تقریباً35.6کلو تک وزن کم کرسکے تھے۔ بارہ ماہ کے اختتام پر سرجری سے گزرنے والے افراد کا وزن چالیس کلو تک گر چکا تھا جو کہ تقریباً اتنا ہی تھا جتنا کہ دیگر افراد نے ورزشی پروگرام کے ذریعے کم کیا تھا۔اس تحقیق کی روشنی میں ڈاکٹر رابرٹ کہتے ہیں کہ وہ افراد جن کا وزن قد کے مقابلے میں دس سے بیس کلو کے قریب زیادہ ہو، وہ ورزش کے ذریعے وزن کم کرلیتے ہیں ،انہیں اس کیلئے محض ہمت دلائے جانے اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے، دوسری جانب ایسے افراد جن کا موٹاپا خطرناک حدوں کو چھو رہا ہو، انہیں ایسا لگتا ہے کہ اب وزن کم کرنا ناممکن ہے اور اسے کم کرنے کی واحد صورت آپریشن ہے۔ ڈاکٹر رابرٹ کا یہ پروگرام ان افراد کے ذہن میں موجود اسی مفروضے کو غلط ثابت کرنے کیلئے ترتیب دیاگیا تھا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…