جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا کے سب سے طویل القامت شخص ’عالم چنہ‘ کی حیران کن تصاویر منظر عام پر آ گئیں!!

datetime 2  جولائی  2017 |

سیہون(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کے سب سے طویل القامت شخص کا اعزاز رکھنے والے عالم چنہ کی آج 19ویں برسی ہے ‘ وہ دو جولائی 1998 کو نیویارک میں طویل علالت کے سبب انتقال کرگئے تھے۔سیہون شریف سے کچھ دور بچل چنہ گاؤں میں عالم چنہ 1953 میں پیدا ہوئے تھے، جہاں سے وہ صرف پرائمری تعلیم حاصل کرسکے۔ عالم چنہ کی عمر 10برس تھی جب ان کا قد تیزی سے بڑھنا شروع ہوا۔جب وہ 16 سال کی عمرکو پہنچے تو ان کا قد اور تیزی کے ساتھ بڑھنے لگا۔

یہاں تک کہ ان کے سونے کے لیے چارپائی کے بجائے ایک لکڑی کا تخت بنوایا گیا جس پر وہ سوتے تھے۔اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے عالم چنہ کے ایک رشتے دار ‘ جو ان کا دوست بھی تھا ۔ اس نے پاکستان میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے دفتر سے رابطہ کیا جس نے عالم چنہ کی معلومات لے کر لندن بھیج دیں اب عالم چنہ کا قد 7 فٹ 8 انچ تک پہنچ چکا تھا اور وہ 16 میٹر والی شلوار قمیض بنواتے تھے اور پاؤں کے لیے 22 انچ کا جوتا آرڈر دے کر تیار کرواتے تھے ۔طویل القامت ہونے کے سبب نہ صرف ان کا خرچہ بڑھ گیا بلکہ لوگ بھی انہیں بڑی توجہ سے دیکھتے تھے۔ اس کے علاوہ سفر کرنے میں بھی دشواری ہوتی تھی۔ جب انہیں سیہون شریف کے مزار پر نوکری ملی تھی تو اس کی تنخواہ صرف 2500 روپے تھی۔سنہ 1981 میں عالم چنہ کو دنیا کا لمبا ترین شخص قرار دے کر ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیاجس کی وجہ سے وہ شہرت کی بلندیوں تک پہنچ گئےاور دنیا کے مختلف ملکوں سے انہیں ا پنے ہاں آنے کی دعوتیں ملنے لگیں۔سنہ 1985 میں بنگلہ دیش کے ایک شخص کو دنیا کا لمبا ترین آدمی قرار دے دیا گیا۔ تاہم اس کے انتقال کے بعد پھر دوبارہ عالم چنہ ایک بار پھر دنیا کا لمبا ترین آدمی قرار دے دیا گیا۔انہوں نے اپنے لمبے قد کے سبب دنیا کے کئی ممالک دیکھےاور انہیں تقریباً 18 سو سے زیادہ ایوارڈز، شیلڈز اور انعامات مل چکے تھے۔

بہت بڑے قد کی وجہ سے وہ اکثر پبلک ٹرانسپورٹ جس میں بس شامل تھی سفر کرتے تھے یا پھر ٹرین میں آتے جاتے تھے۔ اس صورتحال کو دیکھ کرسابق ملٹری صدر ضیا الحق نے انھیں ایک خصوصی کار کا تحفہ دیا ۔پہلی شادی پشاور سے تعلق رکھنے والی ایک پٹھان خاندان کی لڑکی سے ہوئی تاہم ذہنی ہم آہنگی نہ ہوسکنے کے سبب کچھ عرصے بعد طلاق ہوگئی‘ سنہ 1989 میں ان کی شادی نسیم عرف نصیبو سے ہوگئی جسن کی کوکھ سے ایک بیٹے کی ولادت 14 جولائی 1990 میں ہوئی جس کا نام عابد رکھا گیا۔

عالم چنہ کو حکومت کی جانب سے ایک خصوصی مکان بنا کے دیا گیا تھا جس کے دروازے کی لمبائی دس فٹ تھی اور جس پلنگ پر وہ سوتے تھے وہ بھی 10 فٹ کا تھا۔عالم چنہ کے پانچ بھائی اور تین بہنیں تھیں جن کا وہ بڑا خیال رکھتے تھے اور ان سب کے قد نارمل تھے۔ شادی کے چار سال بعد ایک روڈ حادثے میں اس کی کولہے اور ریڑھ کی ہڈی کو بڑا نقصان ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں چلنے پھرنے میں دشواری ہونے لگی تھی۔دنیا کے سب سے طویل القامت شخص گردے کے مرض میں مبتلا ہوگئے تھے

اورپاکستان میں ڈاکٹروں نے انھیں یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنا علاج باہر ممالک کے کسی بڑے اسپتال میں کروائیں جہاں پر جدید سہولتیں موجود ہوں۔ اس سلسلے میں عالم چنہ نے حکومت کو علاج کے لیے اپیل کی جسے منظور ہونے میں 6 مہینے لگ گئے اور جب وہ امریکہ کے اسپتال میں پہنچےتودیر ہوچکی تھی۔ہائی بلڈ پریشر اور شوگر جیسی بیماریوں کی وجہ سے اس کی طبیعت بہت خراب رہنے لگی جب کہ زیر علاج رہتے ہوئےانہیں چار ہارٹ اٹیک ہوئے، بالاخر 2 جولائی 1998 میں نیویارک کے اسپتال میں انہوں نے دم توڑ دیا۔

ان کی موت سے پاکستان د نیا کے لمبا ترین قد رکھنے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ شخص سے محروم ہوگیا۔پاکستانی کے اس مایہ ناز شخص کی میت 10 جولائی کو امریکہ سے کراچی لائی گئی جہاں سے ان کے لیئے بنائے گئے خصوصی تابوت کو سڑک کے ذریعے سیہون پہنچایا گیا اور انہیں لعل شہباز قلندر کے احاطے میں بنی مسجد کے برابر میں دفن کیا گیا۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…