جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ نے ایران کیخلاف تاریخی قدم اُٹھالیا

datetime 1  جولائی  2017 |

نیویارک(آئی این پی )امریکہ کی ایک عدالت نے ایران سے تعلق پر نیویارک کی ایک 30 منزلہ عمارت قرق کرنے کا حکم دیدیا ۔امریکی میڈیا کے مطابق نیویارک کی ایک وفاقی عدالت کی جیوری نے کہا ہے کہ امریکی حکومت شہر کی ایک بلند وبالا عمارت کو اس کے ایرانی حکومت کے ساتھ واضح تعلق کے پیش نظر ضبط کر سکتی ہے۔پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی تاریخ میں شہری جائیداد کی ضطگی کا سب سے بڑا واقعہ ہوگا۔

عدالت کی جیوری اس نتیجے پر پہنچی کہ علوی فانڈیشن نے، جو ایک 30 منزلہ عمارت کے 60 فی صد حصے کی مالک ہے، عیسی کارپوریشن کو رقوم منتقل کی ہیں، جو خفیہ طریقے سے ایران کے سرکاری بینک کے لیے استعمال ہونے والی ایک جعلی کمپنی ہے۔وکلا کا کہنا تھا کہ علوی فانڈیشن سن 1970 میں شاہ ایران کی جانب سے عطیے میں ملنے والی رقم سے قائم کی گئی تھی جسے 1995 میں ایران پر امریکی پابندیوں کے بعد ایک پرائیویٹ سرمایہ دار کو بیچ دیا گیا سرکاری وکلا کا کہنا ہے کہ علوی فانڈیشن کے عہدے دار جھوٹ بول رہے ہیں اور جرم چھپانے کے لیے دستاویزات چھپا رہے ہیں اور انہیں ضائع کررہے ہیں۔یہ عمارت نیویارک کے ایک مہنگے علاقے ففتھ ایوینو پر واقع ہے ۔ اس وقت عمارت کی مالیت کا تخمینہ 50 کروڑ سے ایک رب ڈالر کے درمیان ہے۔عدالت کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمارت کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم ان متاثرین میں تقسیم کی جائے جو ایران کی سرپرستی میں کی جانے والی دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ان میں خاص طور پر سن 1983 میں بیروت کے حملے کا ہدف بننے والے امریکی میرین اور سن 1996 میں سعودی عرب کے برج الخبر کے بم دھماکوں کے متاثرین شامل ہیں۔تہران ان حملوں میں اپنے کسی بھی طور پر ملوث ہونے سے مسلسل انکار کرتا رہا ہے۔ 2013 میں ایک نچلی عدالت نے امریکی حکومت کے حق میں فیصلہ دیا تھا لیکن فیصلے کے خلاف اپیل کے بعد اس پر عمل درآمد رک گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…