جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں اگر صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو نہ ملتے تو نواز شریف کیا کام کر گزرتے؟ سینئر سیاستدان کا دھماکہ خیز دعویٰ

datetime 2  جولائی  2017 |

مورو(این این آئی) سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اگر وہ صدر کے اختیارات پارلیمنٹ کو نہ دیتے تو نواز شریف تاحیات صدر بن جاتے۔وزیراعظم نواز شریف چار مرتبہ حکومت کرچکے ہیں لیکن پاکستان کا روشن مستقبل صرف پیپلزپارٹی کے ہی پاس ہے۔اگلی حکومت ہماری ہو گی،ہم ا گر آئین میں ترمیم نہ کرتے تو نواز شریف وزیراعظم نہ ہوتے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے ہفتہ کو مورو میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔سابق صدر نے کہا کہ پی پی پی جب بھی اقتدار میں آئی تو اس وقت پاکستان مشکل حالات میں تھا، ان کی پارٹی نے ہمیشہ ہی اپنے دور اقتدار میں ملک کی حالت بہتر کی ہے۔آصف زرداری نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو جب اقتدار ملا تو پاکستان دولخت ہوچکا تھا جبکہ پاکستان کی 90 ہزار فوج اور زمینی علاقہ بھی بھارت کے قبضے میں تھا، تاہم ذوالفقار علی بھٹو نے مذاکرات کی میز پر اپنی فوج اور زمینی علاقہ بھارت سے واپس لیا۔کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرحدیں بڑھانے کے لیے کشمیر کی بات نہیں کرتا بلکہ کشمیر پاکستان کا مسئلہ ہے جس پر اقوام متحدہ کی قرارداد ہے۔پیپلز پارٹی چھوڑنے والے کارکنان اور رہنماؤں کا نام لیے بغیر زرداری کا کہنا تھا کہ کارکنان اِدھر ادھر جانے والے گندے انڈوں کو بھول جائیں، کپتان گندے انڈوں کو ٹکٹ نہیں دے گا۔عمران خان صرف فوٹو سیشن کے لئے ملا رہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ میاں صاحب چار سال میں صرف 4 مرتبہ اسمبلی آئے ہیں، نواز شیرف سے زیادہ تو وزیراعظم جونیجو اسمبلی آتے تھے، قانون میں ترمیم نہ کرتے تو نواز شریف آج وزیراعظم نہ ہوتے،

مودی صاحب کو گلے لگایا جا رہا ہے، بلاول نے 4 سال پہلے وزیر خارجہ رکھنے کا کہا تھا، ملک کی خارجہ پالیسی بہت کمزور ہو گئی۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ اگر وہ صدر کے اختیارات پارلیمنٹ کو نہ دیتے تو نواز شریف تاحیات صدر بن جاتے۔وزیراعظم نواز شریف چار مرتبہ حکومت کرچکے ہیں لیکن پاکستان کا روشن مستقبل صرف پیپلزپارٹی کے ہی پاس ہے۔اگلی حکومت ہماری ہو گی،ہم ا گر آئین میں ترمیم نہ کرتے تو نواز شریف وزیراعظم نہ ہوتے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…