جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

سعودی عرب نے پاکستانی وفد کو ریاض آنے سے کیوں روکا؟اندرونی کہانی سامنے آگئی

datetime 28  مارچ‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) جدہ نے اسلام آباد کی جانب سے اپنے تمام تر وسائل سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے استعمال کرنے کے بیان کی تعریف کی ہے اور اس دوران اس طرح کی پیش رفت ہوئی ہے جس کی وجہ سے ممکن ہے کہ پاکستان اپنی فوج سعودی عرب نہ بھیجے۔ مقامی اخبارکے مطابق سعودی حکام کی جانب سے فون کال موصول ہونے کے بعد پاکستان کو جو اعلیٰ سطح کا وفد سعودی عرب کا دورہ کرنے والا تھا اس کا دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ذریعے نے کہا کہ ہمیں کہا گیا ہے کہ کچھ دن انتظار کریں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان سے کہا گیا ہے کہ مسئلے کا حل عرب لیگ کے ذریعے تلاش کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور بعد میں اسلامی کانفرنس تنظیم کا اجلاس بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی پیشکش کے حوالے سے ذریعے نے کہا کہ سویلین اور عسکری قیادت نے پاکستان کے تمام تر وسائل سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے استعمال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کے فیصلے اور پاکستان کی پیشکش کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستانی فوج یمن میں سعودی عرب کی کارروائی میں حصہ لے گی۔ ذریعے نے کہا کہ جمعرات کو ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں اس پہلو پر بحث ہوئی تھی اور متفقہ طور پر اس بات پر اتفاق ہوا کہ کسی بھی سعودی عرب کے خلاف کسی بھی طرح کی غیر ملکی جارحیت کی صورت پاکستان ہر ممکن اقدام کر سکتا ہے۔تاہم، پاکستان کیلئے ممکن نہیں ہوگا کہ وہ یمن میں باغیوں کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کا حصہ بنے یا تنازع میں شامل ہو جائے۔ یہ ذریعہ حکومت میں اہم عہدے کا حامل ہے اور جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں بھی شرکت کر چکا ہے۔ اخبار کے مطابق پاکستان کو احساس ہے کہ فریق کی طرح مشرق وسطیٰ کے تنازع میں شامل ہونے کے نتیجے میں نہ صرف اسلام آباد بلکہ پوری مسلم امہ کیلئے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اخبار نے کہا کہ ایک طرف اسلام آباد کے جدہ کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں اور پاکستان کیلئے اس کی حیثیت ایک باپ جیسی ہے، تو دوسری جانب پاکستان کی سرحد تہران سے بھی ملتی ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کسی بھی طرح کے تنازع میں حصہ بننے اور ان کی پراکسی وار میں حصہ لینے کی بجائے پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے تاکہ مشکل صورتحال سے گریز کیا جا سکے جو بصورت دیگر شیعہ سنی تقسیم اور مسلم امہ کے نفاق کا باعث بن سکتی ہے۔ اخبار کے مطابق پاکستانی وفد، جو جمعہ کو سعودی عرب روانہ ہونے والا تھا، سعودی حکام کے ساتھ ان ضروریات کے حوالے سے بات چیت کرتا جن کی سعودی عرب پاکستان سے توقع رکھتا ہے اور جن کی پاکستان انہیں پیشکش کر سکتا ہے۔ جمعرات کو وزیراعظم نواز شریف نے وزیر دفاع خواجہ آصف اور اپنے معاون سرتاج عزیز سے کہا تھا کہ وہ جمعہ کو ریاض جائیں اور برادر اسلامی ملک کی ضروریات معلوم کریں اور صورتحال کا جائزہ لیں۔ وفد میں پاکستان کی دفاعی فورسز کے سینئر ارکان بھی شامل تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…