اسلام آباد (نیوزڈیسک) جدہ نے اسلام آباد کی جانب سے اپنے تمام تر وسائل سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے استعمال کرنے کے بیان کی تعریف کی ہے اور اس دوران اس طرح کی پیش رفت ہوئی ہے جس کی وجہ سے ممکن ہے کہ پاکستان اپنی فوج سعودی عرب نہ بھیجے۔ مقامی اخبارکے مطابق سعودی حکام کی جانب سے فون کال موصول ہونے کے بعد پاکستان کو جو اعلیٰ سطح کا وفد سعودی عرب کا دورہ کرنے والا تھا اس کا دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ذریعے نے کہا کہ ہمیں کہا گیا ہے کہ کچھ دن انتظار کریں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان سے کہا گیا ہے کہ مسئلے کا حل عرب لیگ کے ذریعے تلاش کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور بعد میں اسلامی کانفرنس تنظیم کا اجلاس بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی پیشکش کے حوالے سے ذریعے نے کہا کہ سویلین اور عسکری قیادت نے پاکستان کے تمام تر وسائل سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے استعمال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کے فیصلے اور پاکستان کی پیشکش کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستانی فوج یمن میں سعودی عرب کی کارروائی میں حصہ لے گی۔ ذریعے نے کہا کہ جمعرات کو ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں اس پہلو پر بحث ہوئی تھی اور متفقہ طور پر اس بات پر اتفاق ہوا کہ کسی بھی سعودی عرب کے خلاف کسی بھی طرح کی غیر ملکی جارحیت کی صورت پاکستان ہر ممکن اقدام کر سکتا ہے۔تاہم، پاکستان کیلئے ممکن نہیں ہوگا کہ وہ یمن میں باغیوں کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کا حصہ بنے یا تنازع میں شامل ہو جائے۔ یہ ذریعہ حکومت میں اہم عہدے کا حامل ہے اور جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں بھی شرکت کر چکا ہے۔ اخبار کے مطابق پاکستان کو احساس ہے کہ فریق کی طرح مشرق وسطیٰ کے تنازع میں شامل ہونے کے نتیجے میں نہ صرف اسلام آباد بلکہ پوری مسلم امہ کیلئے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اخبار نے کہا کہ ایک طرف اسلام آباد کے جدہ کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں اور پاکستان کیلئے اس کی حیثیت ایک باپ جیسی ہے، تو دوسری جانب پاکستان کی سرحد تہران سے بھی ملتی ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کسی بھی طرح کے تنازع میں حصہ بننے اور ان کی پراکسی وار میں حصہ لینے کی بجائے پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے تاکہ مشکل صورتحال سے گریز کیا جا سکے جو بصورت دیگر شیعہ سنی تقسیم اور مسلم امہ کے نفاق کا باعث بن سکتی ہے۔ اخبار کے مطابق پاکستانی وفد، جو جمعہ کو سعودی عرب روانہ ہونے والا تھا، سعودی حکام کے ساتھ ان ضروریات کے حوالے سے بات چیت کرتا جن کی سعودی عرب پاکستان سے توقع رکھتا ہے اور جن کی پاکستان انہیں پیشکش کر سکتا ہے۔ جمعرات کو وزیراعظم نواز شریف نے وزیر دفاع خواجہ آصف اور اپنے معاون سرتاج عزیز سے کہا تھا کہ وہ جمعہ کو ریاض جائیں اور برادر اسلامی ملک کی ضروریات معلوم کریں اور صورتحال کا جائزہ لیں۔ وفد میں پاکستان کی دفاعی فورسز کے سینئر ارکان بھی شامل تھے۔
سعودی عرب نے پاکستانی وفد کو ریاض آنے سے کیوں روکا؟اندرونی کہانی سامنے آگئی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ووزی ناں (Vozinha)
-
عامر خان کی اہلیہ گوری سپراٹ کتنے اثاثوں کی مالک ہیں؟
-
سونے کی قیمت میں آج بھی بڑی کمی
-
دورانِ سروس وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کے لیے بڑا فیصلہ
-
غیر ملکی خواتین سے اجتماعی زیادتی، 3 ملزمان کا ڈی این اے میچ کر گیا
-
سولر پینلز کی قیمتوں میں بڑی کمی، بیٹریاں اور انورٹرز بھی سستے ہوگئے
-
23 سال سے مجھے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کرسٹیانو رونالڈو
-
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مزید گر گئیں
-
بچوں کے لیے نادرا جووینائل کارڈ بنوانے کا آسان طریقہ کار جانیے
-
راولپنڈی کے 150 سال پرانے کیس میں 3 گرفتاریاں، ملزمان کا 4 روزہ ریمانڈ حاصل
-
صحت کارڈ سے کینسر اور کارڈیک سرجری کا علاج ختم
-
نجی ٹی وی کی اینکر نے اپنے شوہر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کروا دیا
-
بڑی خوشخبری: سعودیہ نے ایشیا کیلیے تیل کی قیمت 26 برس کی کم ترین سطح پر کردی
-
تیل کی قیمت میں 26 سالوں میں سب سے بڑی کمی



















































