جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

عراق اور شام میں داعش کے زیرِ استعمال بموں اور بارودی سامان کے اہم اجزا کا دوسرا بڑا ماخذ بھارت نکلا 

datetime 20  جون‬‮  2017 |

لندن(این این آئی) ایک تحقیقی رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ عراق اور شام میں داعش کے زیرِ استعمال بموں اور بارودی سامان کے اہم اجزا کا دوسرا بڑا ماخذ بھارت ہے۔لندن میں ’’کنفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ‘‘ نامی ادارے کے مطابق شام اور عراق میں داعش جو بم اور دھماکہ خیز مواد استعمال کررہی ہے اس کی تاریں، سیفٹی فیوز، ڈیٹونیٹرز اور دیگر سامان بھارتی کمپنیوں کے تیارکردہ ہیں۔

واضح رہے کہ یہ تنظیم دنیا بھر میں جاری فوجی ہتھیاروں کی سپلائی اور ان کے ذمہ دار ممالک پر نظر رکھتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ داعش کل 51 کمپنیوں کا اسلحہ و گولہ بارود استعمال کررہی ہے جو 20 مختلف ممالک سے تعلق رکھتی ہیں جبکہ ان میں روس، امریکہ، برازیل، ایران، بیلجیئم، ہالینڈ اور جاپان بھی ہیں لیکن بھارتی ادارے دوسرے بڑے سپلائر ہیں ان میں سرفہرست ترکی ہے اور ترکی میں تیارکردہ 700 اقسام کا اسلحہ اور اشیائے حرب میدانِ جنگ سے برآمد کی گئی ہیں ان میں ترک کمپنیوں کی تعداد 13 اور بھارتی کمپنیوں کی تعداد 7 ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی اداروں نے ’’قانونی طور پر لائسنس کے تحت لبنان اور ترکی کو ہتھیار اوردیگر عسکری سامان برآمد کیا ہے‘‘ بھارتی وزارتِ دفاع نے اس پر تبصرے سے انکار کردیا ہے تاہم کنفلکٹ آرمامینٹ ریسرچ کے مطابق اب تک اس کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں کہ بھارتی کمپنیوں نے براہِ راست داعش کو یہ اشیا فراہم کی ہوں اس کے علاوہ عراق اور ترکی کان کنی اور زراعت کے بھی کئی آلات برآمد کررہے ہیں جن کے ذیلی آلات مثلاً ڈیٹونیٹر تار وغیرہ کو بہت آسانی سے تبدیل کرکے تخریب کاری اور جنگوں کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…