جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ نے آنکھیں بدل لیں،قطر پر اب تک کا سب سے سنگین الزام عائد کرڈالا،خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 20  جون‬‮  2017 |

واشنگٹن (آئی این پی)امریکی حکومت نے ایک بار پھر قطر پر دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ القاعدہ کی ذیلی تنظیم النصرہ فرنٹ کو پچھلے کئی برسوں سے قطر سے وافر مقدار میں امداد ملتی رہی ہے،شام میں لڑنے والی النصرہ کے لیے قطر فنڈز کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، اس حوالے سے واشنگٹن ماضی میں بھی قطر کو متنبہ کرتا رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا کی جانب سے مختلف ذرائع سے قطر کو دہشت گردی کی فنڈنگ روکنے کے لیے کہا جاتا رہا ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے باضابطہ طور پر دوحہ کو آگاہ نہیں کیا گیا تاہم امریکا دہشت گرد تنظیموں کو قطر سے ملنے والی امداد پر بار بار اپنی تشویش کا اظہار کرچکا ہے۔واشنگٹن انسٹیٹیوٹ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس اس بات کی تصدیق کر چکی ہیں کہ القاعدہ کی ذیلی تنظیم النصرہ اپنا نام بدل کر فتح الشام محاذ رکھنے کے بعد قطر سے بڑی مقدار میں چندہ اکھٹا کرتی اور تاون کی رقوم وصول کرتی رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق فتح الشام محاذ کے لیے قطر امداد کے حصول کا سب سے موثر اور بڑا ذریعہ ہے۔اگرچہ شام میں سرگرم اس گروپ کے بجٹ کے بارے میں درست اعدادو شمار نہیں ہیں تاہم امریکی عہدیداروں کا اندازہ ہے کہ تنظیم سالانہ 1 کروڑ ڈالر کی رقم حاصل کرتی ہے اور اس کا سب سے بڑا حصہ قطر سے آتا ہے۔امریکی تھینک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق النصرہ کے جنگجوں کے لیے قطر میں دو مشہور شخصیات چندہ جمع کرتی ہیں۔ ان میں کویت حجاج العجمی جو ٹویٹر کے ذریعے لوگوں سے چندہ وصول کرنے کی مہم چلاتے ہیں اور دوسرا ایک قطری شہری جس کی شناخت سعد الکعبی کے نام سے کی جاتی ہے سرگرم ہے۔ یہ دونوں شام میں النصرہ اور اس قبیل کی دوسری تنظیموں کے لیے رقوم جمع کرتے ہیں۔

امریکی انٹیلی جنس اداروں کا کہنا ہے کہ الکعبی ماضی میں القاعدہ کے لیے بھی فنڈ ریزنگ کرچکے ہیں۔ ان پر دہشت گردی کے اہم ترین معاونت کاروں کا الزام بھی عاید کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…