منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

’’ہاں ہم نے جے آئی ٹی ممبران کے خلاف یہ کام کیا ہے‘‘ پاکستان کے بڑے خفیہ ادارے کے سربراہ کا سپریم کورٹ میں اعتراف

datetime 17  جون‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پانامہ جے آئی ٹی ارکان کے صرف کوائف جمع کئے کسی کو ہراساں نہیں کیا، ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان نے سپریم کورٹ میں اعتراف کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو آفتاب سلطان نے پانامہ جے آئی ٹی کے تحقیقاتی عمل میں رکاوٹ بننے کے الزام کا جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے۔ آفتاب سلطان نے اعتراف کرتے

ہوئے اپنے جواب میں موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انٹیلی جنس بیورو اعلیٰ سرکاری عہدیداروں جو اہم عہدوں پر تعینات ہوتے ہیں اور ملازمین کا ڈیٹا اکٹھا کرتی ہے اور پانامہ کیس کیوں کہ ایک بڑا کیس ہے اور اس کے ملکی سیاست پر بڑے اثرات موجود ہیں لہٰذا وفاقی خفیہ ادارے نے جے آئی ٹی ارکان کے کوائف جمع کئے ہیں ۔ آفتاب سلطان نے اپنے جواب میں کسی جے آئی ٹی ممبر اور اس کے اہلخانہ کو ہراساں کرنے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خفیہ ادارے نے کسی جے آئی ٹی رکن اور اس کے اہلخانہ کو ہراساں نہیں کیا اور نہ ہی ان کے سوشل میڈیا اکائونٹس کو ہیک کیا۔واضح رہے کہ جے آئی ٹی رکن بلال رسول اور ان کی اہلیہ کو ہراساں کرنے اور ان کے سوشل میڈیا اکائونٹس ہیک کرنے کے حوالے سے وفاقی خفیہ ادارے پر الزام ہے۔ڈائریکٹر جنرل آئی بی کا اپنے جواب میں کہنا تھا کہ ادارے نے اس حوالے سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے کہ جے آئی ٹی رکن بلال رسول کو کس نے ہراساں کیا اور معاملہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ پاناما جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ میں سرکاری اداروں کی جانب سے تحقیقاتی عمل میں رکاوٹ ڈالنے، سرکاری دستاویزات میں رد وبدل اورجے آئی ٹی ارکان کو دھمکیاں دینے کی شکایت کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…