جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

عید الفطر کیلئے نئے کرنسی نوٹوں کا حصول کےشیڈول کس نے ناکام بنادیاکہ عوام دیکھتے رہ گئے

datetime 15  جون‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن) عید الفطر کیلئے نئے کرنسی نوٹوں کا حصول شیڈول بنکوں اور منی چینجروں نے ناکام بنادیا ہے ،سٹیٹ بنک کی جانب سے منتخب کردہ برانچوں نے صرف3دنوں میں اپنے کوٹے پورے کر لئے ہیں ،سٹیٹ بنک ایس ایم ایس سروس پر روزانہ لاکھوں روپے کے ایس ایم ایس پیغامات کے جواب میں کوٹہ پورا ہونے کا مسیج ملنے لگا ہے ۔آن لائن کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کے مطابق ملک بھر میں

نئے کرنسی نوٹوں کی فراہمی کیلئے سٹیٹ بنک کی جانب سے نامزد کردہ بنک برانچز نے کرنسی ڈیلروں کے ساتھ مل کرصرف 3دنوں میں اپنے کوٹے پورے کر لئے ہیں اور عوام کی جانب سے سٹیٹ بنک کی فراہم کردہ ایس ایم ایس سروس نمبر8877پر نامزد برانچ کے ساتھ میسج کرنے پر یہ پیغام وصول ہوتا ہے کہ مذکورہ برانچ نے اپنا کوٹہ پورا کر لیا ہے لہذا کسی دیگر برانچ کا انتخاب کریں اس سلسلے میں آن لائن کی جانب سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے تمام بنک برانچز کے نام پر ایس ایم ایس 8877پر ارسال کئے گئے مگر تمام برانچز کیجانب سے کوٹہ پورا ہونے کے میسجز موصول ہوئے ہیں واضح رہے کہ سٹیٹ بنک ایک ایس ایم ایس مسیج پر 1روپیہ 50پیسے وصول کررہا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر ملک بھر سے لاکھوں ایس ایم ایس پیغامات موصول ہو رہے ہیں جس کے جواب میں کوٹہ پورا ہونے اور کسی دیگر نامزد برانچ کا نام دینے کا مشورہ دیا جاتا ہے سٹیٹ بنک نے نئے کرنسی نوٹوں کیلئے ایس ایم ایس سروس کا آغاز12جون سے کیا تھا اور صرف 3دنوں میں تمام نامزد بنکوں نے اپنا کوٹہ پورا کر لیاہے جس کی وجہ سے اس سال بھی عوام کی بڑی تعداد نئے کرنسی نوٹ کرنسی ڈیلروں سے مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہوگی ۔جس کی وجہ سے اس سال بھی عوام کی بڑی تعداد نئے کرنسی نوٹ کرنسی ڈیلروں سے مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہوگی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…