جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

’’سعودیہ قطر تنازعہ اور درپردہ حقائق‘‘

datetime 14  جون‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)دی انڈی پینڈنٹ میں شائع ہونے والے خصوصی مضمون میںمعروف صحافی رابرٹ فسک نے انکشاف کرتے ہوئے لکھا ہے قطر سعودیہ کشیدگی معاملہ قطری نیوز ایجنسی کی ویب سائٹ کی ہیکنگ سے شروع ہوا جس پر ایران کی حمایت میں قطری امیر کا بیان شائع ہوا تھا۔ قطر نے اس رپورٹ کی تردید کی لیکن سعودی عرب نے اسے سچ قرار دیا۔

رابرٹ فسک نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب کی خاطر یمن کی جنگ میں کودنے سے انکار کر دیا تھا۔اس کے درپردہ وجہ یہ تھی کہ سعودی عر ب نے صرف ایک مخصوص فرقے سے تعلق رکھنے والے فوجی مانگے تھے جس پر پاکستان سخت تشویش میں مبتلا ہو گیاتھاکیونکہ پاکستان سمجھتا تھا کہ یہ پاکستان میں فرقہ واریت کو فروغ دینے کے مترادف ہو گا۔ یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف سعودی عسکری اتحادکی سربراہی سے استعفیٰ دینے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ سعودی عرب سے بھاری امداد لینے والا مصر بھی یمن کی جنگ کیلئے اپنے فوجی دینے پر تیار نظر نہیں آتا ۔رابرٹ فسک کے مطابق قطر اور شام کی بشارالاسد حکومت کے درمیان خاموش رابطے ہیں۔ خلیجی ممالک میں یہ شکوک پائے جاتے ہیں کہ شام کی جنگ ختم ہونے کے بعد قطر اس ملک کی تعمیر نو کرنا چاہتا ہے۔ بشارالاسد صدارت کے عہدے پر فائز رہے بھی تو بھاری قطری قرضوں کی وجہ سے شامی معیشت قطر کے زیر اثر آجائے گی۔ یوں قطر کو الجزیرہ کی طاقت کے علاوہ ایک بڑے عرب ملک کی سرزمین پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کا موقع بھی مل جائے گا ۔ یہ صورتحال طاقتور خلیجی ممالک کے لئے ناقابل قبول ہے اور یہی تنازعے کی اصل جڑ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…