جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

قطرکو اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا،بڑا نقصان ہوگیا

datetime 13  جون‬‮  2017 |

دوحہ(این این آئی)تین خلیجی ملکوں اور مصر کی جانب سے قطر کے سفارتی بائیکاٹ کے بعد دوحہ کو غیر معمولی سیاسی تنہائی اور نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ دیگر شعبوں کی طرح قطر کی سیاحت تباہی کے دھانے پر پہنچ چکی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کے سفارتی بائیکاٹ کے بعد قطری حکومت کے سرکاری اعداد وشمار میں بتایا گیا ہے کہ قطرآنے والے نصف سیاحوں کا تعلق خلیجی ریاستوں سے ہے۔

بائیکاٹ تحریک کے بعد خلیجی ممالک سے سیاحوں کی آمد ورفت مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اجمالی طور پر گذشتہ برس دوحہ کی سیر کوآنے والے خلیجی سیاحوں میں ایک تہائی سیاحوں کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قطر کو سیاحت کے میدان میں اپنے گاہکوں کی کس قدر کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بائیکاٹ کرنے والے ممالک کی طرف سے قطر آمد کا سلسلہ مکمل طور پر ٹھپ ہے۔سرکاری بیانات کے مطابق گذشتہ برس مجموعی طور پر 2.91 ملین سیاح قطر آئے۔ ان میں 1.4 فی صد کا تعلق خلیجی ملکوں سے تھا جو کہ کل سیاحوں کا قریبا نصف ہے۔ سال 2016ء میں اس سے پچھلے سال کی نسبت سیاحوں کی آمد میں 8.5 فی صد اضافہ بھی ہوا۔گذشتہ برس کے نو ماہ کے دوران 7 لاکھ 40 ہزار سعودی باشندے سیاحت کے لیے قطر آئے، جب کہ پورے سال میں 9 لاکھ سعودیوں نے دوحہ کی سیر کی۔قطر سیر وسیاحت کے لئے آنے والے یورپی باشندوں میں کافی پیچھے ہے۔ گذشتہ برس یورپ سے 14.4 فی صد زائرین قطری اور دیگر فضائی کمپنیوں کے ذریعے دوحہ آئے۔ماہرین کا کہنا تھا کہ چند خلیجی ملکوں کے بائیکاٹ کے نتیجے میں قطری سیاحت تباہی کے دھانے پر پہنچ چکی ہے اور سیاحوں کی آمد قریبا پچاس فی صد کم ہو گئی ہے۔ اگر سفارتی بحران برقرار رہتا ہے تو اگلے چند دنوں میں قطری سیاحت میں 70 سے 80 فی صد کمی آ سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…