جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

اب سعودی عرب، یواے ای اور بحرین بڑے مالی نقصان کیلئے تیارہوجائیں،قطر کا سرپرائز،غیر متوقع قدم اُٹھالیا

datetime 12  جون‬‮  2017 |

دوحہ(آئی این پی)قطر نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی طرف سے بندش کے فیصلے سے متاثر ہونے والوں کو ہرجانے کی ادائیگی کے لئے دعوی دائر کرنے کی تیاری شروع کردی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق حکومت سے منسلک قومی انسانی حقوق کمیٹی کے سربراہ علی بن دامیر المیری نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اپنی فضائی حدود کو

قطر کے لئے بند کرنے اور دیگر بندشوں کا اطلاق کرنے سے متاثر ہونے والے قطر اور خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کے شہریوں کو ہرجانے کی ادائیگی کے لئے بین الاقوامی قانونی بیورو کے ساتھ سمجھوتہ کیا جائے گا۔المیری نے کہا ہے کہ بین الاقوامی قانونی بیورو دعوی دائر کر کے ان ممالک سے قومی عدالتوں کے وسیلے سے موجودہ نقصان کی تلافی کرنے کا مطالبہ کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ان عدالتوں کے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہ کرنے کی صورت میں بین الاقوامی سمجھوتوں میں درج “نقصان کی تلافی” کے اصول کے دائرہ کار میں بین الاقوامی عدالتوں کی طرف رجوع کیا جائے گا۔المیری نے قطر کے خلاف مذکورہ فیصلوں کو “اجتماعی سزا اور بین الاقوامی جرم” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹی کو خلیج کے بحران کے بعد سے 700 شکایات موصول ہو چکی ہیں ۔بحران کے دوران کنبوں کو المیہ حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس صورتحال کو قبول کرنا یا اس کے مقابل خاموش رہنا ممکن نہیں ہے۔علی بن دامیر المیری نے کہا ہے کہ قطر قومی انسانی حقوق کمیٹی کی حیثیت سے ہم نے سعوی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی انسانی حقوق تنظیموں کے ساتھ ٹیلی فون پر ملاقاتیں کی ہیں اور پابندیوں کی وجہ سے قطر اور ان تین ممالک کے شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے حل کے لئے فی الفور کاروائیاں کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…