جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

’’مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے ‘‘

datetime 12  جون‬‮  2017 |

طرابلس(این این آئی)لیبیا کے سابق حکمران کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو چھ سال بعد رہا کر دیا گیا ۔ان کی رہائی ایک معافی کے معاہدے کے تحت عمل میں آئی ہے ادھر ماہرین نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ سیف اسلام قذافی کی رہائی سے ملک میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ابو بکر الصدیق بٹالین نے کہاکہ سیف الاسلام قذافی کوگزشتہ روز رہا کر دیا گیا تاہم انھیں عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ سیف اسلام قذافی گذشتہ چھ سالوں سے زنتان نامی دیہی علاقے میں ابو بکر الصدیق بٹالین نامی ایک ملیشیا فورس کی قید میں تھے۔اطلاعات کے مطابق اب وہ مشرقی شہر بیدا میں اپنے رشتے داروں کے ہمراہ رہ رہے ہیں۔ابو بکر الصدیق بٹالین کا کہنا تھاکہ انھوں نے یہ اقدام ملک میں ’عبوری حکومت‘ کی درخواست پر اٹھایا ہے۔ملک کے مشرقی علاقے میں موجود اس حکومت نے پہلے ہی سیف الاسلام کو معافی دے دی تھی تاہم ملک کے مغربی علاقے میں برسرِاقتدار کی ایک ماتحت طرابلس کی عدالت نے ان کی غیر حاضری میں نھیں سزائے موت کی سزا سنا رکھی ہے۔ طرابلس میں موجود حکومت کو اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہے۔یاد رہے کہ ماضی میں بھی سیف الاسلام قذافی کی رہائی کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں تاہم وہ ہمیشہ ثابت ہوئیں۔اپنے والد کے دور میں باغیوں کے خلاف ہونے والی ناکام کارروائی کے دوران انسانی حقوق کی پامالی کرنے پر وہ جرائم کی بین الاقوامی عدالت کو بھی مطلوب ہیں۔سیف الاسلام قذافی کی عمر 44 برس ہے اور انھیں سنہ 2008 میں لندن سکول آف اکنامکس سے متنازع طور پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملی تھی۔

جب معمر قذافی کو باغیوں نے گولی مار کر ہلاک کیا تو اس وقت سیف الاسلام بھی ان کے ہمراہ تھے اور انھیں زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔انھوں نے سنہ 2000 کے بعد مغربی ممالک کے تعلقات میں بہتری کے لیے بھی کوششیں کیں۔ انھیں اپنے والد کے دورِ حکومت کا اصلاح پسند چہرہ کہا جاتا تھا۔سیف اسلام قذافی اپنے والد کے منتخب جانشین ماننے جاتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…