جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

اسامہ کی پناہ گاہوں کے حوالے سے مشہور’’تورا بورا‘‘ پھر میدان جنگ بن گیا،بڑی تعداد میں ہلاکتیں،حیرت انگیزانکشافات

datetime 10  جون‬‮  2017 |

کابل(آئی این پی)افغان شہریوں اور طالبان نے داعش کو تورا بورا سے نکال باہر کیا،تین روزتک جاری رہنے والی شدید جھڑپوں کے بعد داعش جنگجو اپنے پیچھے درجنوں نعشیں چھوڑ کر علاقے سے فرار ہوگئے ۔امریکی میڈیا کے مطابق افغانستان کے مشرقی علاقے میں رہنے والوں نے تورابورا کے علاقے سے داعش کے جنگجوں کو نکالنے کی لڑائی میں طالبان عسکریت پسندوں کا ساتھ دیا۔

گذشتہ جمعے کو تین روز کی شدید جھڑپوں کے بعد اطلاعات کے مطابق داعش کے جنگجو اپنے پیچھے درجنوں نعشیں چھوڑ کر علاقے سے چلے گئے۔لڑائی منگل کے روز اس وقت شروع ہوئی جب داعش کے جنگجوں نے مشرقی فغان صوبے ننگرہار کے ضلع پچیر اوگام کی تورابورا کے پہاڑی سلسلے میں قبضے کے لیے طالبان کی چوکیوں پر حملہ کیا۔اس صوبے کی سرحدیں پاکستان سے ملتی ہیں۔ مقامی آبادی داعش کو ایک بڑا خطرہ سمجھتی ہے اور وہ اسے علاقے میں قدم جمانے سے روکنے کے لیے طالبان کا ساتھ دے رہی ہے۔تورا بورا کو پہاڑی غاروں کے اپنے سلسلے کی وجہ سے شہرت حاصل ہے۔ یہ وہ غاریں ہیں جہاں دسمبر 2001 میں امریکہ نے اسامہ بن لادن پر بڑی تعداد میں بم گرائے تھے۔ اطلاعات کے مطابق بن لادن اپنے ساتھیوں سمیت ان غاروں میں چھپا ہوا تھا، تاہم وہ کسی طرح سے وہاں سے نکل کر پاکستان فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔طالبان نے حالیہ برسوں میں تورا بورا کے زیادہ تر دیہی علاقوں سے فغان فورس کو باہر دھکیل کر وہاں کا کنڑول حاصل کر لیا ہے۔ننگرہار حکومت کے ایک ترجمان نے بتایا کہ چونکہ اس علاقے میں فغان فورسز موجود نہیں ہیں اس لیے مقامی آبادی نے اپنی زمینوں اور املاک کو داعش سے بچانے کے لیے خود ہتھیار اٹھا لیے ہیں۔

داعش کیخلاف طالبان اور مقامی آبادی کی تین روز لڑائیوں میں تقریبا 500 خاندانوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔داعش کے جنگجو ضلع پچیراگام کی بستیوں اور آس پاس کے علاقوں میں کئی بار حملے کر چکے ہیں ۔ ان حملوں میں انہوں نے سینکڑوں لوگوں کو ہلاک اور اغوا کیا۔ ان کے گھر بار اور کاروباروں کو جلا کر خاکستر کیا اور مقامی اسکول بند کروا دیے ۔ داعش کی کارروائیوں سے خوف زدہ بوکر ہزاروں افراد علاقہ چھوڑ کر چلے گئے۔

صوبائی حکومت کے ایک عہدے دار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مرکزی حکومت لوگوں کو اپنی حفاظت کے لیے ہتھیار فراہم کرے گی۔پولیس کے صوبائی سربراہ جمعہ گل ہمت نے بتایا کہ آس پاس کے کئی اضلاع میں داعش کے تقربیا 2 ہزار کے جنگجو متحرک ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دہشت گرد گروپ نے وادی پتاش میں اپنے تربیتی مرکز قائم کر لیے ہیں جہاں عربوں اور پاکستانیوں سمیت غیرملکی جنگجو نئے لوگوں کو تربیت دیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…