ارضیات (Geology) میں بل پڑنے (Folding Phenamenon) کا مظہر حالیہ دریافت شدہ حقیقت ہے۔ قشرارض (Earth’s Crust) میں بل پڑنے ہی کی وجہ سے پہاڑی سلسلے وجود میں آتے ہیں۔ ’’قشرارض‘‘ جس پر ہم رہتے ہیں، کسی ٹھوس گولے کی طرح ہے، جبکہ کرہ زمین کی اندرونی پرتیں نہایت گرم اور مائع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زمین کا اندرون کسی بھی قسم کی زندگی کے لئے قطعاً غیر موزوں ہے۔
آج ہمیں یہ بھی معلو م ہو چکا ہے کہ پہاڑوں کے استحکام کا تعلق، قشر ارض پر پڑنے والے بل ہی ہیں جو پہاڑوں کا کام کرتے ہیں۔ ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ زمین کا رداس (Radius) یعنی نصف قطر (Diameter) تقریباً 6035 کلو میٹر ہے اور قشرارض یعنی (Earth Crust)، جس پر ہم رہتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بہت پتلی ہے، جس کی موٹائی 2کلو میٹر سے لے کر 35کلو میٹر تک ہے۔ چونکہ قشر ارض بہت پتلی ہے، لہذا اس کے تھر تھرانے یا ہلنے کا امکان بھی زیادہ ہے، ایسے میں پہاڑ کسی خیمے کی میخوں کی طرح کام کرتے ہیں۔ جو قشر ارض کو تھام لیتے ہیں اور اسے استحکام (Stability) عطا کرتے ہیں۔ قرآن پاک میں بھی یہی کہا گیا ہے۔’’ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑھ دیا۔‘‘ یہاں عربی لفظ اوتاد کا مطلب بھی میخیں ہی نکلتا ہے، ویسی ہی میخیں جیسی کہ خیمے کو باندھے رکھنے کے لئے لگائی جاتی ہیں۔ ارضیاتی بلوں، یا سلوٹوں کی گہری بنیادیں بھی یہی ہیں۔ ایک کتاب جس کا نام Earth ہے اور یہ دنیا بھر کی کئی جامعات (Universities) میں ارضیات کی بنیادی حوالہ جاتی نصابی کتاب کا درجہ بھی رکھتی ہے، اس کتاب کے مصنفین میں ایک نام ڈاکٹر فرینک پریس (Frank Press) کا بھی ہے، جو 12سال تک امریکہ اکیڈمی آف سائنسز کے سربراہ رہے ہیں۔
جبکہ سابق امریکی صدرجمی کارٹر کے زمانے میں صدارتی مشیر بھی تھے۔ اس کتاب میں وہ پہاڑوں کی وضاحت، کلہاڑی کے پھل (Wedge Shape) جیسی شکل سے کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ پہاڑ بذات خود ایک وسیع تر وجود کا ایک چھوٹا حصہ ہوتا ہے۔ جس کی جڑیں زمین میں بہت گہرائی تک اتری ہوتی ہیں۔ڈاکٹر فرینک پریس کے مطابق، قشر ارض کی پائیداری اور قیام پذیری میں پہاڑ نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پہاڑوں کے کاموں کی وضاحت کرتے ہوئے قرآن پاک واضح طور پر یہ فرماتا ہے کہ انہیں اس لئے بنایا گیا ہے تاکہ یہ زمین کو لرزتے رہنے سے بچائیں:’’اور ہم نے زمین میں پہاڑ جما دئیے تاکہ انہیں لے کر ڈھلک نہ جائے۔‘‘ قرآن پا ک کے فراہم کردہ بیانات جدید ارضیاتی معلومات سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔ سطح زمین متعدد ٹھوس ٹکڑوں یعنی پلیٹوں میں ٹوٹی ہوئی ہے جن کی اوسط موٹائی تقریباً 100کلو میٹر ہے۔
یہ پلیٹیں، جزوی طور پر پگھلے ہوئے حصے کے اوپر تیر رہی ہیں۔ اس حصے کو ایتسیو سفیر (Aesthenosphere) کہا جاتا ہے۔ پہاڑ عموماً پلیٹوں کی بیرونی حدود پر پائے جاتے ہیں۔ قشر ارض (Earth Crust) سمندروں کے نیچے 5کلو میٹر موٹی ہوتی ہے جبکہ خشکی پر اس کی اوسط موٹائی 35کلو میٹر ہوتی ہے۔ البتہ پہاڑی سلسلوں میں قشر ارض کی موٹائی 80کلو میٹرتک جا پہنچتی ہے،
یہی وہ مضبوط بنیادیں ہیں جن پر پہاڑ کھڑے ہیں پہاڑوں کی مضبوط بنیادوں کے بارے میں قرآن پاک نے درج ذیل آیت مبارکہ میں کچھ یوں بیان فرمایا ہے۔’’اور پہاڑوں کو اس نے مضبوطی سے جما دیا۔‘‘ ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن پاک میں پہاڑوں کی خصوصیت اور نوعیت کے بارے میں دی گئی معلومات بھی پوری طرح دور جدید کی ارضیاتی دریافتوں سے ہم آہنگ ہیں۔



















































