کراچی(این این آئی)دنیا بھر میں 80 فیصد بیماریاں غیر موزوں اور آلودہ پانی کے استعمال کی بدولت ہوتی ہیں لہذا پینے کے پانی میں احتیاط انسانی زندگی کیلئے مفید ثابت ہوسکتی ہے ۔یہ بات ما ہرین طب کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق پاکستا ن میں 9 فیصد اموات آلودہ پانی کے استعمال کے باعث ہوتی ہیں جبکہ بچے اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں جنہیں دست، ہیضہ ، ٹائیفائیڈ، جلدی امراض، ہیپاٹائٹس اور اس جیسی دیگر مہلک بیماریوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ حکومتی ہدایات کی روشنی میں اس ضمن میں بھر پور طریقے سے ہیلتھ ایجوکیشن مہم کا آغاز کیاجارہا ہے۔عوام کو چاہئے کہ وہ احتیاطی تدابیر کے طور پر پینے کا پانی ہمیشہ ابال کر استعمال کریں اور یہ پانی اسٹیل کے برتن میں 10 منٹ تک ابال کر کسی برتن میں محفوظ کر لیا جائے تاکہ اس میں موجود جراثیم تلف ہوسکیں۔ماہرین کے مطابق بازار میں بکنے والی پانی کی اکثر بوتلیں حفظان صحت کے اصولوں اور صفائی کے معیار پر پورا نہیں اترتیں اس طرح بظاہر شفاف نظر آنے والا پانی بھی جراثیم سے آلودہ ہوسکتا ہے لہذا پانی پیتے وقت محتا ط رہنا چاہئے۔



















































