بدھ‬‮ ، 22 جولائی‬‮ 2026 

پڑھیں صبح صبح خوشی کی خبر

datetime 6  جون‬‮  2017 |

کراچی( این این آئی)ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر اور یونائٹیڈبزنس گروپ (یو بی جی)کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان میں بجلی کے مسائل جیسے ہی حل ہونگے اور نئے پاور منصوبوں سے بجلی سسٹم میں آئے گی ،ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا تاہم حکومت کو چاہیئے کہ ایکسپورٹرزکے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس ریفنڈز جلد سے جلد ادا کردے تاکہ وہ ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے جدوجہد تیز کرسکیں۔وہ بزنس کمیونٹی کے اعزاز میں دیئے گئے

افطار ڈنر سے خطاب کررہے تھے۔اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیر ایف طفیل، سینیٹرعبدالحسیب خان،ڈائریکٹر ایف آئی اے شاہد حیات،گلزار فیروز،ملک سہیل حسین،عبدالسمیع خان،خالدتواب،ممتاز شیخ،سی پی ایل سی کے چیف زبیرحبیب، اختیار بیگ،اشتیاق بیگ،حنیف گوہر،شیخ شکیل احمدڈھینگڑا،نوراحمدخان،ناصرالدین شیخ،اکرام راجپوت، اور دیگر بھی موجود تھے۔ایس ایم منیر نے کہاکہ اسٹیٹ بینک کے اعداد وشمار کے مطابق ایس ایم ایز میں مجموعی فنانسنگ پرائیویٹ سیکٹر میں صرف7فیصد ہے جو بے حد کم ہے تاہم 2020تک امکانات ہیں کہ ایس ایم ایز میں یہ فنانسنگ15فیصد ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چائنا میں ایس ایم ایز پر بہت کام کیاگیا ہے اور وہاں ایس ایم ایز سیکٹر میں لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آرہے ہیں ، پاکستان میں بھی47لاکھ سے زائد ایس ایم ایز ہیں جنہیں مضبوط پلیٹ فارم مہیا کرنا ہوگا۔انکا کہنا تھا کہ ہمارے بچے کالج اور یونیورسٹیز سے پڑھ کر جب نوکری کی تلاش میں نکلتے ہیں تو انہیں نوکری میسر نہیں آتی جس کی وجہ سے وہ بیرون ممالک جانے کی کوششیں کرتے ہیں اس طرح ہمارا ینگ برین باہر جارہا ہے مگر باہر ممالک میں زیادہ تر نوجوان ٹیکسی ڈریور بن جاتے ہیں یا پیٹرول پمپس پر کام کرتے ہیں لہٰذا اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ حکومت تعلیم اور صحت پر خصوصی توجہ دے اور ان دونوں سیکٹرز میں زیادہ سے زیادہ فنڈز مختص کئے جائیں تاکہ ہمارا تعلیمی معیار بہتر ہو اور لوگوں کی صحت کی سہولتیں مل سکیں۔ ایس ایم منیر نے کہا ہے کہ ایس ایم ایز کے فروغ کی طرح پاکستانی خواتین کو

بھی تجارت وصنعت کے شعبے میں وسیع ترمواقع فراہم کرنے کیلئے فیڈریشن ہرممکن کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اواس ضمن میںر فیڈریشن چیمبر کے صدر زبیر طفیل کی کاوشیں قابل قدر ہیں،یو بی جی نے خواتین تاجران کو اعتماد اورتحفظ فراہم کیا ہے یہی وجہ ہے کہ ملکی بزنس ویمن ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے مردوں کے شانہ بشانہ کام کررہی ہیں، پاکستانی بزنس ویمن کو شرکت کے ہر ممکن مواقع فراہم کئے جارہے ہیں تاکہ وہ بھی ملکی برآمدات بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیرطفیل نے کہا کہ ملکی برآمدات میں کمی کا سبب عالمی بحران اور کساد بازاری ہے،برآمد کنندگان کو ریفنڈز کی عدم ادائیگی سے مالی مشکلات درپیش ہیںوزیرخزانہ نے وعدہ کیا ہے کہ ایکسپورٹرز کے ریفنڈز کی ادائیگی 30جون سے شروع ہوجائے گی تاہم ہماری تجویز ہے کہ ایف بی آر ایکسپورٹرز کو نقد رقم ادا نہیں کرسکتی تو پھربرآمدکنندگان کو بانڈزکی شکل میں ادائیگی کرے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے کافی عرصہ بعد اچھا بجٹ پیش کیا ہے

جس سے عوام کو ریلیف ملے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط  ہے کہ حکومت نے جن565آئٹمز پر ڈیوٹی بڑھائی ہے ان سے غریب متاثر ہوگا بلکہ یہ تمام اشیاء غیرضروری ہیں جنہیں غریب نہیں بلکہ امیرطبقہ استعمال کرتا ہے لہٰذاانکی قیمتوں میں اضافہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان کا حل


آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…