جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

پڑھیں صبح صبح خوشی کی خبر

datetime 6  جون‬‮  2017 |

کراچی( این این آئی)ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر اور یونائٹیڈبزنس گروپ (یو بی جی)کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان میں بجلی کے مسائل جیسے ہی حل ہونگے اور نئے پاور منصوبوں سے بجلی سسٹم میں آئے گی ،ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا تاہم حکومت کو چاہیئے کہ ایکسپورٹرزکے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس ریفنڈز جلد سے جلد ادا کردے تاکہ وہ ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے جدوجہد تیز کرسکیں۔وہ بزنس کمیونٹی کے اعزاز میں دیئے گئے

افطار ڈنر سے خطاب کررہے تھے۔اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیر ایف طفیل، سینیٹرعبدالحسیب خان،ڈائریکٹر ایف آئی اے شاہد حیات،گلزار فیروز،ملک سہیل حسین،عبدالسمیع خان،خالدتواب،ممتاز شیخ،سی پی ایل سی کے چیف زبیرحبیب، اختیار بیگ،اشتیاق بیگ،حنیف گوہر،شیخ شکیل احمدڈھینگڑا،نوراحمدخان،ناصرالدین شیخ،اکرام راجپوت، اور دیگر بھی موجود تھے۔ایس ایم منیر نے کہاکہ اسٹیٹ بینک کے اعداد وشمار کے مطابق ایس ایم ایز میں مجموعی فنانسنگ پرائیویٹ سیکٹر میں صرف7فیصد ہے جو بے حد کم ہے تاہم 2020تک امکانات ہیں کہ ایس ایم ایز میں یہ فنانسنگ15فیصد ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چائنا میں ایس ایم ایز پر بہت کام کیاگیا ہے اور وہاں ایس ایم ایز سیکٹر میں لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آرہے ہیں ، پاکستان میں بھی47لاکھ سے زائد ایس ایم ایز ہیں جنہیں مضبوط پلیٹ فارم مہیا کرنا ہوگا۔انکا کہنا تھا کہ ہمارے بچے کالج اور یونیورسٹیز سے پڑھ کر جب نوکری کی تلاش میں نکلتے ہیں تو انہیں نوکری میسر نہیں آتی جس کی وجہ سے وہ بیرون ممالک جانے کی کوششیں کرتے ہیں اس طرح ہمارا ینگ برین باہر جارہا ہے مگر باہر ممالک میں زیادہ تر نوجوان ٹیکسی ڈریور بن جاتے ہیں یا پیٹرول پمپس پر کام کرتے ہیں لہٰذا اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ حکومت تعلیم اور صحت پر خصوصی توجہ دے اور ان دونوں سیکٹرز میں زیادہ سے زیادہ فنڈز مختص کئے جائیں تاکہ ہمارا تعلیمی معیار بہتر ہو اور لوگوں کی صحت کی سہولتیں مل سکیں۔ ایس ایم منیر نے کہا ہے کہ ایس ایم ایز کے فروغ کی طرح پاکستانی خواتین کو

بھی تجارت وصنعت کے شعبے میں وسیع ترمواقع فراہم کرنے کیلئے فیڈریشن ہرممکن کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اواس ضمن میںر فیڈریشن چیمبر کے صدر زبیر طفیل کی کاوشیں قابل قدر ہیں،یو بی جی نے خواتین تاجران کو اعتماد اورتحفظ فراہم کیا ہے یہی وجہ ہے کہ ملکی بزنس ویمن ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے مردوں کے شانہ بشانہ کام کررہی ہیں، پاکستانی بزنس ویمن کو شرکت کے ہر ممکن مواقع فراہم کئے جارہے ہیں تاکہ وہ بھی ملکی برآمدات بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیرطفیل نے کہا کہ ملکی برآمدات میں کمی کا سبب عالمی بحران اور کساد بازاری ہے،برآمد کنندگان کو ریفنڈز کی عدم ادائیگی سے مالی مشکلات درپیش ہیںوزیرخزانہ نے وعدہ کیا ہے کہ ایکسپورٹرز کے ریفنڈز کی ادائیگی 30جون سے شروع ہوجائے گی تاہم ہماری تجویز ہے کہ ایف بی آر ایکسپورٹرز کو نقد رقم ادا نہیں کرسکتی تو پھربرآمدکنندگان کو بانڈزکی شکل میں ادائیگی کرے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے کافی عرصہ بعد اچھا بجٹ پیش کیا ہے

جس سے عوام کو ریلیف ملے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط  ہے کہ حکومت نے جن565آئٹمز پر ڈیوٹی بڑھائی ہے ان سے غریب متاثر ہوگا بلکہ یہ تمام اشیاء غیرضروری ہیں جنہیں غریب نہیں بلکہ امیرطبقہ استعمال کرتا ہے لہٰذاانکی قیمتوں میں اضافہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…