جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

کامیابی

datetime 3  جون‬‮  2017 |

وہ بہت غریب سا آدمی تھا کام کی تلاش میں اکثر شہر کے دفتروں والے علاقے میں پھرتا رہتا تھا وہ دیکھتا تھا کہ دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین دن کے اوقات میں کھانا کھانے کے وقفے کے دوران جلدی جلدی دفاتر سےنکلتے تھے اپنے ٹفن باکس کھولتے کسی ریسٹورنٹ کسی کھلی جگہ پر بیٹھ کر کھانا کھاتے اور پھر واپس اپنی اونچی عمارتوں کے دفاتر کی طرف دوڑتے چلے جاتے وہ ان سینکڑوں ،ہزاروں ٹفن برداروں کو دیکھتا تھا ۔

دن اسے ایک بات سوجی اس نے اپنے گھر پر بن کباب بنائے اور بن کباب بھی کیا بس ایک بن لیا اس کو کاٹ کر اس کے اندر گوشت کا ٹکڑا رکھا تھوڑی سی چٹنی اور مصالہ ڈالا اسے گرم کیا اور اپنی پرانی سی سائیکل پر رکھ کر دن کے کھانے کے وقفے میں دفاتر کے باہر آ کر کھٹرا ہو گیا اس کے دل میں بھی خدشات تھے ،ناکامی کا خوف تھا نہ جانے کوئی اس کے کھانے کو پسند کرے گا یا نہیں ؟کہیں اس غریبی میں اور آٹا نہ گیلا ہوجائے اور میرے پاس جو تھوڑے بہت پیسے ہیں وہ بھی نہ چلے جائیں؟۔مگر اسےبہت حیرت اور خوشی ہوئی ہے کہ دفاتر کے ملازمت پیشہ لوگوں نے اس سے برگر خرید کر کھائے اور اس سہولت کی فراہمی پر خوش بھی ہوئے اور پوچھا بھائی تم کل بھی آو گے ؟ یہ ہمارا تو کام آسان ہوگیا روز ٹفن اٹھا کر بھاگنا پڑتا تھا۔اب وہ روز برگر بناکر لاتا اور اس کے برگر ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوجاتے وہ مسلسل سوچتا رہتا کہ ان کو مزید مزیدار اچھا اور لوگوں کی ضرورت کے مطابق بنایا جائے اس کاکام بڑھتاپھیلتا اور پھولتا چلا گیا پھر اس نے ایک دکان بنا لی پھر دوسری ،تیسری اور چوتھی دکان تک پہنچا اور آج اس کی اولاد برگر کی سب سے بڑی چین کی مالک ہے اور دنیا اسے”میکڈونلڈ “کے نام سے جانتی ہےآپ کے خیا ل میں اس شخص نے کیا کیا تھا؟؟؟۔اس نے—- ایک نیڈ گیپ (Need Gap)تلاش کیا    —-اس نیڈ گیپ کے مطابق چیز تیار کی اس کے معیار کا خیال رکھا—– اسے ٹھیک جگہ لے کر پہنچااس میں مسلسل بہتری کے آئیڈیاز سوچتا رہا—-

اپنا رویہ دوستانہ رکھا—– ہمت ہارے بغیرمسلسل کوشش کرتا رہا اور بلآخر وہ کامیاب ہوگیا اس نے اپناہدف حاصل کرلیا ،پھر آخر یہ کیوں ضروری ہے کہ ہر شخص اپنا پہیہ دوبارہ ایجاد کرنے کی کوشش کرے؟ جن بھی لوگوں نے کوئی کامیاب کام کرنا ہے وہ اس شخص یا اس جیسے دوسرے لوگوں سے ہی کیوں نہ سیکھ لیں؟کیا خیال ہے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…