جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

کابل میں اشرف غنی کے خلاف احتجاج خطرناک شکل اختیارکرگیا، پولیس سے جھڑپیں،متعددہلاک

datetime 2  جون‬‮  2017 |

کابل(آئی این پی) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بم دھماکے کے واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور صدر اشرف غنی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران پولیس سے جھڑپوں میں 4 مظاہرین ہلاک اور 8 زخمی ہوگئے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق افغان دارالحکومت میں گزشتہ دنوں ہونے والے بم دھماکے پر احتجاجی مظاہرین نے ایوان صدر کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت ہمیں تحفظ فراہم نہیں کرسکتی تو مستعفی ہو کر گھر چلی جائے۔ پولیس نے مظاہرین کو ایوان صدر کی طرف جانے سے روکنے کی کوشش کی تو مظاہرین نے پولیس پر پتھرا کیا ۔ سیکورٹی اہلکاروں نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی اور واٹر کینن سے احتجاجی مظاہرین کو منتشر کردیا۔ اس دوران سیکورٹی اہلکاروں اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جس میں 4 مظاہرین ہلاک اور 8 زخمی ہوگئے۔ مظاہرین نے کابل دھماکے کو حکومت کی انٹیلی جنس ناکامی قرار دیا۔دوسری جانب سرکاری ذرائع نے غیر ملکی خبر ایجنسی کو بتایا کہ صدر اشرف غنی حملے کے جواب میں طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے 11 قیدیوں کو سزائے موت دینے کی منظوری دے سکتے ہیں۔واضح رہے کہ بدھ کے روز کابل کے سفارتی علاقے میں ہونے والے دھماکے میں 90 سے زائد افراد ہلاک جب کہ درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ طالبان نے دھماکے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے جب کہ افغان حکام نے حقانی نیٹ ورک کا واقعے کا ذمہ دار قرار دیا۔ واضح  رہے کہ کابل کے انتہائی حساس سفارتی علاقے میں گزشتہ ر وزہونے والے دھماکے میں 90 سے زائد افراد ہلاک جب کہ درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ طالبان نے دھماکے سے اعلان لا تعلقی کیا ہے جبکہ افغان حکومت اسے حقانی نیٹ ورک کی کارروائی قرار دے رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…