جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

معمرقذافی کابیٹارہا،سیف الاسلام قذافی کوکیوں پکڑاگیاتھااورکس کی تحویل میں رکھاگیا؟ناقابل یقین دعویٰ کردیاگیا

datetime 1  جون‬‮  2017 |

ٹریپولی (مانیٹرنگ ڈیسک)لیبیا کی عبوری حکومت کے تحت وزارت انصاف کے اٹارنی جنرل عیسیٰ الصغیر نے کہا ہے کہ سابق مقتول صدر معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو قانون کے تحت رہا کر دیا گیا ہے۔لیبیا کے وزیر عدل نے جنوب مغربی شہر الزنتان سے تعلق رکھنے والی ابو بکرالصدیق بٹالین کو سیف الاسلام قذافی کو فوری طور پر جیل سے رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ اس بٹالین نے سیف الاسلام قذافی کو ان کے تحفظ کے پیش نظر ایک محفوظ جگہ پرتحویلی حراست میں رکھا ہوا ہے۔اس بٹالین نے وزیر عدل کی سوشل میڈیا سائٹس پر موجود اپنے صفحات پر ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے۔ وزیر انصاف کے نائب نے معمر قذافی کے بیٹے کو 2015ء میں جاری کردہ عام معافی کے قانون نمبر 6 کے تحت رہا کرنے کا کہا ہے۔ یہ قانون پارلیمان کی منظوری سے جاری کیا گیا تھا۔وزیر عدل کے فیصلے کے مطابق :’’ ملزم سیف الاسلام معمر قذافی کے تمام کاغذات کا مذکورہ بالا عام معافی کے قانون کی روشنی میں جائزہ لیا گیا ہے۔جو کیس اس قانون کے دائرہ کار میں آتے ہیں ، سیف قذافی پر ان کا اطلاق نہیں ہوتا ہے‘‘۔لیبیائی حکام کے مطابق عبوری حکومت میں سابق وزیر انصاف نے الزنتان میں جیلوں کے نگران اصلاح اور بحالی کے ادارے کو ایک خط بھیجا ہے اور اس میں کہا ہے کہ عام معافی کے قانون کو فعال کرتے ہوئے سیف الاسلام قذافی کو جیل سے رہا کردیا جائے۔عیسیٰ صغیر نے بھی ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں لیبیا میں آزادانہ نقل وحرکت کی اجازت دی جائے اور وہ بیرون ملک بھی جاسکتے ہیںلیبیائی حکام کے مطابق عبوری حکومت میں سابق وزیر انصاف نے الزنتان میں جیلوں کے نگران اصلاح اور بحالی کے ادارے کو ایک خط بھیجا ہے اور اس میں کہا ہے کہ عام معافی کے قانون کو فعال کرتے ہوئے سیف الاسلام قذافی کو جیل سے رہا کردیا جائے۔عیسیٰ صغیر نے بھی ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں لیبیا میں آزادانہ نقل وحرکت کی اجازت دی جائے اور وہ بیرون ملک بھی جا سکتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…