جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بحرینی شاہی خاندان کی اہم شخصیت نے کس کام کے بدلے بالی ووڈ فنکاروں کو 4 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا؟

datetime 4  جولائی  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)عرب شیخوں کی عیش پرستی کے قصے آپ نے بہت سنے ہوں گے لیکن بحرین کے ایک شیخ کے خلاف لندن میں دائر کیے گئے مقدمے میں ان کی شاہ خرچیوں کے ایسے انکشافات سامنے آئے ہیں کہ دنیا کے امیر ترین افراد بھی اپنا سا منہ لے کر رہ گئے ہیں۔ بحرینی شیخ حماد عیسیٰ علی الخلیفہ کے خلاف مصر کے ایک بزنس مین احمد عادل عبداللہ نے سوا چار کروڑ ڈالر (تقریباً سوا 4 ارب پاکستانی روپے ) ہر جانے کا

دعویٰ کیا ہے ۔لندن کی عدالت میں دائر کئے گئے مقدمے میں بزنس مین احمد عادل عبداللہ کا کہنا ہے کہ بحرینی شیخ نے 26 بالی ووڈ سٹارز کے ساتھ ملاقات کے عوض انہیں یہ رقم دینے کا معاہد ہ کیا تھا۔ ان میں سے چار چوٹی کے فلمسٹاروں سے شیخ ملاقات کرائی گئی، جن میں شاہ رخ خان بھی شامل تھے۔ درخواست گزار کے مطابق اس کے بعد بحرینی شیخ معاہدے سے پھر گئے اور باقی سٹارز سے ملاقات سے انکار کر کے انہیں لاکھوں ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ درخواست گزار کے مطابق ہر فلمسٹار سے شیخ کی 15 سے 25 منٹ کی ملاقات کے عوض اسے 15 لاکھ ڈالر (تقریباً 15 کروڑ پاکستانی روپے ) ملنے تھے، جبکہ ہر تیسری ملاقات پر اسے 5 لاکھ ڈالر ( تقریباً 5کروڑ پاکستانی روپے) کا بونس بھی دیاجانا تھا۔مصری بزنس مین کا کہنا ہے کہ اس نے چار بالی وڈ سٹارز کے ساتھ بحرینی شیخ کی ملاقاتیں ممبئی اور دبئی میں کرائی تھیں، اور باقی سٹارز کے ساتھ ملاقاتوں کا بھی اہتمام کر لیا تھا لیکن بحرینی شیخ نے یہ سلسلہ جاری رکھنے سے انکار کر دیا ہے ۔ بزنس مین کے مطابق بالی ووڈ کے مہنگے ترین فلمسٹارز سے وقت لینے اور انہیں بحرینی شیخ کے ساتھ ملاقات پر تیار کرنے کیلئے اس کے بے پناہ اخراجات ہو چکے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…