اسلام آباد(نیوز ڈیسک )بین الاقوامی صحت ایڈووکیسی گروپ نے خبردار کیا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے سگریٹ کے پیکٹس پر اشتہارات کے سائز میں اضافہ کرنے سے متعلق فیصلہ کرنے میں تاخیر کے باعث شہریوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ورلڈ لنگ فاونڈیشن کے سینئر ٹیکنیکل ایڈوائزر ڈاکٹر طاہر نے دعویٰ کیا کہ ترقی یافتہ ممالک کے شہریوں نے ان کی حکومتوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے سخت اقدامات کی وجہ سے تمباکو نوشی ترک کردی ہے، جس کے باعث تمام بین الاقوامی سگریٹ بنانے والی کمپنیاں اپنے کاروبار کا 80 فیصد کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک سے حاصل کررہی ہے۔یاد رہے کہ گیارہ فروری کو وزارت قومی صحت سروسز نے سگریٹ کے پیکٹ پر انتباہی تحریر کے سائز کو پیکٹ کے سائز کے چالیس فیصد سے بڑھا کر پچاسی فیصد تک کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس اعلان میں کہا گیا تھا کہ اس تبدیلی کا نفاذ اکتیس مئی سے ہوجائے گا، اور اس کے بعد سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کو سگریٹ کے نئے پیکٹ مذکورہ ہدایات کی روشنی میں متعارف کرانے ہوں گے۔ڈاکٹر طاہر کا کہنا تھا کہ سگریٹ کے پیکٹ پر انتباہی اشتہار کے سائز میں اضافے کے فیصلے نے کمپنیوں کو حیران کردیا ہے اور پاکستان کے بعد ہندوستان نے بھی اشتہارکے سائز کو 85 فیصد تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نیپال نے مذکورہ اشتہارات میں کو 90 فیصد جبکہ سری لنکا نے بھی 85 فیصد تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ڈاکٹر طاہر کا کہنا تھا کہ پاکستان تپ دق کی مریضوں کی تعداد کے باعث دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ٹی بی کے مرض کی وجہ سے ہر سال 62 ہزاور افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔اس موقع پر موجود ڈاکٹر اسلم نے تب دق اور پھیپھڑوں کے امراض کے خلاف بین الاقوامی یونین کی رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں ہرسال ایک لاکھ 8 ہزار 8 سو افراد اس مرض کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں۔یہ خیال رہے کہ رواں سال 11 فروری کو محکمہ قومی صحت کی وزارت نے اعلان کیا تھا کہ سگریٹ پر تمباکو نوشی کے مضر صحت ہونے کے اشتہارات کے سائز کو 40 فیصد سے بڑھا کر 85 فیصد تک کردیا جائے۔سگریٹ تیار کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے نئے اشتہارات والے پیکٹس 31 مئی سے متعارف کروائے جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور یہ فیصلہ درآمد کئے جانے والے سگریٹ پر بھی لاگو ہوگا۔حکومت کی جانب سے مذکورہ فیصلے کو سیگریٹ سے وابستہ کمپنیوں، کاشتکاروں اور فروخت کنندگان نے مسترد کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے سے ان کا کاروبار ختم ہوجائے گا جس سے ملک کی معیشت پر برے اثرات مرتب ہونگے۔سگریٹ انڈسٹریز کی جانب سے فی?ڈرل بورڈ آف ریونیو اور دیگر اداروں کو مراسلے لکھے گئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ حکومتی فیصلہ ناصرف قومی آمدنی میں کمی کا باعث ہوگا بلکہ اس سے ملک میں سگریٹ کی اسمگلنگ کی حوصلہ افزائی ہوگی۔پاکستان حکموت کی جانب سے اٹھائے گئے مذکورہ اقدام پر ورلڈ ہیلتھ اورگنائزیشن (ڈبلو ایچ او) نے ایک خط کے ذریعے سے جنوبی ایشیائی ملک میں پہلی بار تمباکو نوشی کے خلاف اٹھائے گئے اقدام کو سراہا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق 2013 میں تمباکوں سے وابستہ 6 بڑی کمپنیوں نے 342 ارب ڈالرز کی آمدنی حاصل کی تھی۔مزید ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد 2 کروڑ ہےرپورٹ کے مطابق 2010 میں 12 اشارعہ 2 فیصد مردوں کی اموات (جو تقریبا ایک ہزار 6 سو 45 ہفتہ) اور 4 اشارعہ 5 فیصد خواتین کی ہلاکتیں (جو تقریبا 4 سو 42 ہر ہفتہ) ہیں تمباکو نوشی کے باعث ہوئی۔رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا تھا کہ پاکستان میں پانچ لاکھ 55ہزار بچے ہر روز تمباکو نوشی کرتے ہیں۔
سگریٹ پیکٹس : انتباہی تحریر کے سائز کو بڑھانے کا فیصلہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا
-
تعلیمی اداروں میں موسم سرماکی چھٹیوں میں اضافے کا اعلان
-
خوشخبری!نئے سال میں CG 125 اورسی ڈی 70 جدید خصوصیات کے ساتھ پیش،قیمتیں بھی سامنے آگئیں
-
موسم سرما کی شدت میں اضافے پر تعلیمی اداروں کے اوقات کار تبدیل، نوٹی فکیشن جاری
-
سونے کی قیمت میں بھاری اضافہ
-
برمنگھم میں آسمان گلابی ہوگیا، لوگ خوفزدہ، وجہ سامنے آگئی
-
اسلام آباد، یونیورسٹی طالبہ کو شادی کا جھانسہ دیکر کلاس فیلو کی زیادتی
-
ٹرمپ نے چین اور روس کو بڑی’’پیشکش‘‘ کر دی
-
پنجاب حکومت کابیرون ملک نوکری کے خواہشمند نوجوانوں کے لئے بڑااعلان
-
پولیس افسر کے ہاتھوں بیوی کا قتل، عینی شاہد بیٹی کے تہلکہ خیز انکشافات
-
شدید سردی ،والدین نےسکولوں کی چھٹیاں بڑھانے کا مطالبہ کر دیا
-
پاکستان نیوی کا زمین سے فضا تک مار کرنیوالے ایل وائی 80 میزائل کا تجربہ
-
گھنے بالوں کا جھانسہ، شوہر گنجا نکلا، بیوی نے ایف آئی آر درج کرادی
-
بچوں کے لیے استعمال ہونے والے سیرپ پر فوری پابندی عائد















































