منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

احسان اللہ احسان کس کے زیر حراست ہے؟اس کے ساتھ اب کیا ہوگا؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 23  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کوبتایاگیاہے کہ کالعدم تحریک طالبان کےسابق ترجمان احسان اللہ احسان کی تحقیقات کی جارہی ہیں ۔تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کوبریفنگ دیتے ہوئےوزارت داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری فیصل لودھی نے بتایاکہ دوران تفتیش احسان اللہ احسان نے مزید انکشافات کئے ہیں کہ اس کے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘اورافغانستان کی

خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے ساتھ رابطے تھے ،فیصل لودھی نے ارکان کمیٹی کومزید بتایاکہ احسان اللہ احسان پاکستان میں دہشتگردی کے کئی بڑے واقعات جن میں مردان میں باچہ خان ائیرپورٹ پرحملہ ،گلگست بلتستان میں سیاحوں پرحملہ ،بھارتی کے ساتھ واہگہ بارڈرپرحملہ اورپنجاب کے صوبائی وزیرداخلہ شجاع خانزادہ کے قتل میں بھی ملوث ہے ۔جب پینل نے فیصل لودھی سے استفسارکیاکہ اس وقت احسان اللہ احسان کس کی حراست میں ہے توانہوں نے بتایاکہ احسان اللہ احسان پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کی حراست میں ہے اور قانون کے تحت معاملے کو آگے بڑھایا جائے گا اور کیس کے جلد خارج ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔سینیٹ کمیٹی کے ارکان نے دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں حکومتی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور احسان اللہ احسان کو دی جانے والی توجہ پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ سینیٹر صالح شاہ نےالزام لگایاکہ حکومت کالعدم ٹی ٹی پی کے کچھ گروپوں کومدددے رہی ہے اوروہ گروہ بنوں ،ٹانک اورڈیرہ اسماعیل خان میں اپنے دفتربھی بناچکے ہیں ۔ایم کیوایم کے سینیٹر طاہر مشہدی نے کہا کہ احسان اللہ احسان کا ٹرائل متعلقہ قوانین کے تحت کیا جانا چاہیئے اور اس میں تمام ضوابط پر عملدرآمد ہونا چاہیئے۔بیرسٹر محمد علی سیف نے اس موقع پرکہاکہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعدکالعدم تنظیم طالبان تقسیم ہوچکی ہےجس کی وجہ سے جماعت الاحرارخالد خراسانی اورملافضل اللہ کے درمیان اختلافات کی وجہ سے بنی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…