جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

مسئلہ کشمیر،عالمی کمپنیوں نے بھارت کو جھٹکادیدیا،غیرمتوقع اعلان پر پورے بھارت میں کھلبلی مچ گئی

datetime 22  مئی‬‮  2017 |

نئی دہلی (آئی این پی)عالمی کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر اور مذہبی تنازعات بھارت میں غیر ملکی سرمایہ داری کیلئے خطرہ ہیں جس کے نتیجے میں اس کی معیشت غیر مستحکم ہو سکتی ہے ۔بھارتی میڈیا کے مطابق 17کھرب ڈالر مالیت کی دنیا کی صف اول کی کمپنی جے پی مورگن نے رواں ماہ اپنی 8 دستاویزات میں مذہبی اور سرحدی تنازعات و بھارت میں اپنی سرمایہ کاری کیلئے خطرناک قراردیا.

380ارب ڈالر سے زائد کے اثاثے رکھنے والی ابردین اسیٹ منیجمنٹ کمپنی نے بھی امریکی سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کو جمع کرائی گئی رپورٹس میں ان ہی خدشات کا اظہار کیا۔ایٹن وینس گریٹر انڈیا فنڈ ، میتھیوز انٹرنیشنل فنڈز، الپس فنڈز ، فرینلن ٹیمپ ٹیشن انٹرنیشنل ٹرسٹ ، گلوبل ایس فنڈ ز اور آئی شیئر ٹرسٹ ، آرتھر جے گالا گر اینڈ و اور از وے یپیٹل منیجمنٹ ٹرسٹ نے بھی مسئلہ کشمیر و دیگر تنازعات پر تشویش کا اظہارکیا ہے ۔ ان کمپنیوں اور ٹرسٹس کے اعلی حکام کاکہنا ہے کہ بھارت میں مذہبی اور سرحدی تنازعات جاری ہیں جن میں پاکستان کے ساتھ کشمیر کا تنازع سب سے پرانا ہے ۔ اس کے علاوہ متعدد ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں بھی چل رہی ہیں۔ ان مسائل کو حل نہ کیا تو بھارتی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا۔عالمی کمپنیوں کے غیر متوقع انتباہ پر پورے بھارت میں کھلبلی مچ گئی ہے اپوزیشن جماعتوں نے مودی سرکار کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فوری طورپر استعفے کا مطالبہ کردیا ہے۔اس کے علاوہ متعدد ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں بھی چل رہی ہیں۔ ان مسائل کو حل نہ کیا تو بھارتی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا۔عالمی کمپنیوں کے غیر متوقع انتباہ پر پورے بھارت میں کھلبلی مچ گئی ہے اپوزیشن جماعتوں نے مودی سرکار کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فوری طورپر استعفے کا مطالبہ کردیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…