بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

پیپلزپارٹی کاآنے والے انتخابات میں کیا بنے گا؟مولانافضل الرحمان نے پیش گوئی کردی

datetime 16  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سیاست زرداری کا حق ہے وہ عقلمند ہے اور موقع پر کھیلتے ہیں مگر مجھے نہیں لگتا کہ پیپلزپارٹی آنے والے انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کر سکے گی،ہمارا مقصد فاٹا کے عوام کو مین سٹریم میں لانا ہے، ہم فاٹا میں اصلاحات چاہتے ہیں ، سی پیک منصوبے سے پاکستان دنیا میں ایک توازن رکھے گا ،

کشمیر کمیٹی کی کارکردگی سے مطمئن ہوں ہم ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں ، اگر میں کمیٹی کی چیئرمین شپ سے استعفیٰ دیتا ہوں تو کشمیر کا نام لینے والا نہیں ہوگا۔وہ منگل کو سرکاری ٹی وی کو انٹرویو د دے رہے تھے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حادثے کی وجہ سے ایک طرف تو ون بیلٹ ون روڈ اور دوسری طرف پاکستان کے وزیراعظم کا دورہ چین ،جب دہشتگردوں کو پتہ چلا کہ ہم ناکام ہوچکے اور قوم قوت کیساتھ ایک ہوچکی ہے تو وہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی بھی طریقے سے ان کو نشانہ بنا سکے ، جمعیت علماء4 اس کی حمایت کرتی ہے کہ سی پیک منصوبے سے پاکستان دنیا میں ایک توازن رکھے گا ، دہشت گردی میں پاکستان نے بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اس میں بہت سے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں ، کسی کے گھر تباہ ہوئے اور بھی نقصانات ہوئے ،اب ان کو دوبارہ ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا اور حکومت نے ان کو دس سال کا پلان دیا ہے تعمیر کرنے میں ، ہمارے قانونی اداروں کو اور قانون نافذ کرنے والوں کو حوصلہ ہارنا نہیں چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہم انضمام کے خلاف نہیں ہیں ، ایک ارب صوبے کی تجویز کے نہ حامی اور نہ مخالف ہیں ، ہمارا مقصد فاٹا کے عوام کو مین سٹریم میں لانا ہے، ہم فاٹا میں اصلاحات چاہتے ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ جو عوام کا ایشو ہے ان میں سے اس سے پوچھا جائے ،

میں خود اس خطے کا رہنے والا ہوں اور میری نسلیں اس خطے میں آباد ہیں ، مجھے اس خطے کا احساس ہے لیکن اس کے باوجود کابینہ نے کہا کہ لفظ انضمام نہیں ہوگا ، کابینہ نے کہا کہ لفظمشاورت کا استعمال کیا جائے گا ، ہم اس مسئلے کو سنجیدہ لے رہے ہیں اس کو حل کرنا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سیاست زرداری کا حق ہے وہ عقلمند ہے اور موقع پر کھیلتے ہیں مگر مجھے نہیں لگتا کہ پیپلزپارٹی آنے والے انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کر سکے گی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کمیٹی کی کارکردگی سے مطمئن ہوں ہم ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں ، اگر میں کمیٹی کی چیئرمین شپ سے استعفیٰ دیتا ہوں تو کشمیر کا نام لینے والا نہیں ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…