جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاک چین اقتصادی راہداری،چین نے بھارت کو دوٹوک پیغام دیدیا،بھارتی میڈیا کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 14  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی )بھارتی میڈیا کے مطابق چین کے صدر شی جن پھنگ جنہوں نے ون روڈ ون بیلٹ بین الاقوامی فورم میں اربوں ڈالر سرمایہ کاری کا وعدہ کیا نے ہائی پروفائل اجتما ع جس میں دنیا کے 100سے زیادہ ممالک نے نمائندگی کی بھارت کی عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا ۔شی نے بیلٹ وروڈ فورم (بی آر ایف ) میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا کہا کہ ہمیں تعاون کا کھلا پلیٹ فارم قائم کرنا چاہئے

اور کھلی عالمی معیشت کو سربلند کرنا اور فروغ دینا چاہئے،سی پیک کی وجہ سے بھارت بیجنگ کے سال رواں کی انتہائی اہم سفارتی تقریب میں شریک نہیں ہوا ہے۔ ہندوستان ٹائمز کے مطابق ایسا دکھائی دیتا ہے کہ چینی صدرنے جو خود کو عالمی رہنما اور آزادانہ تجارت کے بڑے ایڈووکیٹ کے طورپر پوزیشن حاصل کررہے ہیں ، اس وقت بھارت کی مذمت کی جب انہوں نے کہا کہ بیلٹ و روڈ منصوبہ ’’علاقائی یکجہتی ‘‘ کا احترام کرتا ہے۔انہوں نے وسیع و عریض چینی کنونشن سینٹرمیں منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک کو چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کی خود مختاری ، وقار اور علاقائی یکجہتی ،ایک دوسرے کے ترقیاتی راستوں و سماجی نظاموں اور ایک دوسرے کے بنیادی مفادات اور اہم دلچسپیوں کا احترام کرنا چاہئے ، ون بیلٹ ون روڈ منصوبے یا بیلٹ روڈ منصوبے جس کا مقصد نیا ریشمی روٹ قائم کرنا ہے کا ایک حصہ سی پیک سڑکوں ، ریل اور توانائی منصوبوں کا جال ہے جو بحیرہ عرب پر پاکستان کی جنوبی بندرگاہ گوادر کو چین کے مغربی سنکیانگ علاقے میں کاشغر کے ساتھ ملائے گا، بھارت کو اس منصوبے کے بارے میں تحفظات ہیں کیونکہ یہ پاکستان کے زیر تسلط کشمیر سے گزرتا ہے جس کے بارے میں دہلی کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے علاقے پر پاکستان کے دعوے کو جواز فراہم کر کے بھارت کی خود مختار کو چیلنج کیا گیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…